Al-Risala · June 1996 · page 32

Compare your life to theirs.

الرسالہ، جون ۱۹۹۶، صفحہ ۳۲

کہہ رہے تھے: این حكام العرب من بوسنة، این حكام العرب من كشمیر۔ ایک صاحب بوسنیا کے لئے امداد کا بورڈ لگائے ہوئے تھے۔ اس پر جلی حرفوں میں لکھا ہوا تھا: Bosnia needs action not pity. بورڈ پر بوسنیا کے ٹوٹے ہوئے مکانات اور دوسرے تباہی کے مناظر تھے۔ اس کے اوپر لکھا ہوا تھا کہ اپنی زندگی کا مقابلہ ان سے کیجئے:

Compare your life to theirs.

میں نے کہا کہ یہ مقابلہ ادھورا ہے۔ انگلستان کے مسلمان ہم آہنگی کے اصول کو اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اور بوسنیا کے مسلمانوں نے ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کیا۔ اب دونوں اپنی اپنی قیمت پا رہے ہیں۔ ورنہ ٹکراؤ چھیڑنے سے پہلے بوسنیا کے مسلمان بھی اسی طرح اچھی حالت میں تھے جیسے بقیہ یورپ کے مسلمان اچھی حالت میں رہ رہے ہیں۔

اس فیسٹول میں دلائی لاما، شنکر اچاریہ، مدرٹریسا وغیرہ کو بھی آنے کی دعوت دی گئی تھی۔ مگر مختلف وجوہ سے وہ لوگ نہ آسکے۔ مدرٹریسا نے اسپتال سے اپنا ایک پیغام بھجوایا تھا۔ اس پیغام کا ایک حصہ یہ تھا: The fruit of prayer is faith, The fruit of faith is love, The fruit of love is service, The fruit of service is peace. ایک سردار جی سے بات کرتے ہوئے میں نے اقبال کا یہ مصرعہ پڑھا :

نانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایا۔ انھوں نے فوراً کہا، اقبال نے تو گرونانک کو یہ بھی کہا ہے: ہند کو اک مرد کامل نے جگایا خواب سے اس فیسٹول میں سب سے زیادہ حصہ مادھوانی پر یوار نے لیا تھا۔ ایک صاحب نے اپنی تقریر میں منو بھائی کی سرتا اور اد ارتا کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ منو بھائی کو میں تاجر کے روپ میں نہیں بلکہ سنت کے روپ میں دیکھتا ہوں۔ گھر گھر میں پوجا کا سنکلپ لیا ہے انھوں نے۔ شری منو بھائی مادھوانی نے اپنی تقریر میں کہا: میرے پر ماتما کون ہے ـــــ ہنومان جی۔ میں نے پانچ سو بار ہنو مان جی سے اپنا دکھ درد کہا ہے۔ ہنومان جی نے پوجیے باپو مراری، کو بھیجا، انگلینڈ میں بھارت کی مہا نتا قائم کرنے کے لئے میں گورو

‹ Previous page Next page › Contents of June 1996 All issues

Printed page