Bernard Lewis, The Muslim Discovery of Europe.
الرسالہ، جون ۱۹۹۶، صفحہ ۳۳
سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ مادھوانی پر لواری ہی کر سکتا ہے۔
اس قسم کی باتیں لوگوں کی زبان سے سن کر میں نے سوچا کہ آدمی کو جب دین حق نہ ملے تو وہ دین امانی میں پناہ لیتا ہے۔ حتی کہ مسلمان بھی اگر قرآن سے کٹ جائیں تو دوی چیز جہاں جا کر وہ ٹھہریں گے وہ دین امانی ہوگا ، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔
لندن سے ۱۹۸۲ میں ایک کتاب چھپی ہے۔ اس کو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ساڑھے تین سو صفحہ کی اس کتاب کا نام ہے مسلمانوں کی دریافتِ یورپ:
Bernard Lewis, The Muslim Discovery of Europe.
اس کتاب کے تعارف میں لندن کے اخبار سنڈے ٹائمس نے لکھا تھا کہ گیارھویں صدی عیسوی کی مسلم دنیا ایک عظیم تہذیب تھی۔ وہ ایک ایسے آرٹ اور سائنس کا مرکز تھی جو اسپین سے مڈل ایسٹ تک پھیلا ہوا تھا. جب کہ اسی زمانہ میں یورپ تاریک ادوار (dark ages) میں پڑاسورہاتھا۔ یہ دونوں دنیائیں ایک دوسرے کے بارے میں بہت کم جانتی تھیں :
The two world knew little of one another.
کہا جاتا ہے کہ یہ جدید کمیونی کیشن سے پہلے کی بات ہے۔ ورنہ آج ساری دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے۔ آج منٹوں میں ایک علاقہ کی خبر دوسرے علاقہ میں پہنچ جاتی ہے۔ مگر ایک اور اعتبار سے آج بھی صورتحال زیادہ مختلف نہیں۔ آج بھی مسلم دنیا بڑی حد تک مغرب کے حقیقی افکار سے نا آشنا ہے۔ اسی طرح مغربی دنیا بھی بڑی حد تک اسلام کی حقیقی تصویر سر سے بے خبر ہے۔ مسلم دانش ور " مغرب " کے نام سے ایک ایسی دنیا کو جانتے ہیں جو اسلام کی دشمن ہو۔ اور مغربی دانشور " اسلام " کے نام سے ایک ایسے مذہب کو جانتے ہیں جو دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے۔ دور آگہی میں بھی انسان کی بے خبری ختم نہیں ہوئی ۔
دوسری عالمی جنگ سے پہلے لندن کو دنیا کے نمبر ایک شہر کی حیثیت حاصل تھی ۔ وہ خاص شہر (the city) کہا جاتا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد جب برٹش ایمپائر ٹوٹا تو لندن کی حیثیت بھی اسی طرح بہت کم ہوگئی جس طرح سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد ماسکو کی اہمیت کم ہوگئی ہے۔ اسی مہینہ اگست ۱۶۶۶ میں لندن میں اس کی تاریخ کی سب سے بڑی آگ لگی تھی جس کو عظیم آگ
‹ Previous page Next page › Contents of June 1996 All issues