Al-Risala · June 1996 · page 38

۳۵ الرسول جون ۱۹۹۶

الرسالہ، جون ۱۹۹۶، صفحہ ۳۸

سازندوں کی پوری ٹیم تھی ۔ لمبی کتھا کے بعد انہوں نے “ بولئے ہنو مان جی کی جے‘‘ “ کہہ کر مخصوص انداز میں تقریر شروع کی ۔ شری ہنو مان جی کو انہوں نے رام دوار بتایا ۔ انہوں نے کہا کہ ۱۸۸۳ میں جب سوامی ویویکانند امریکہ گئے تو کسی نے ان کو چڑھانے کے لئے پوچھا کہ سوامی جی ، آپ کی گھڑی میں کتنا بجا ہے۔ سوامی جی نے کہا کہ ایک ۔ کچھ دیر کے بعد اس نے دوبارہ پوچھا۔ سوامی جی نے دوبارہ کہا کہ ایک ۔ کچھ دیر کے بعد اس آدمی نے پھر یہی سوال کیا ۔ سوامی جی نے پھر کہا کہ ایک ۔ اب اس آدمی نے مذاق کے انداز میں سوامی جی سے کہا کہ سوامی جی ، آپ کیسی گھڑی پہن کر امریکہ آئے ہیں جس میں ہر وقت ایک ہی بجا رہتا ہے۔ سوامی ویویکانند نے نرمی سے جواب دیا : میرے بھائی ، سادھوا دویت واد ہوتا ہے۔ وہ دویت کو مانتا نہیں اس لئے اس کی گھڑی میں تو ہمیشہ ایک ہی بجے کا سے رہتا ہے۔ غالباً اس آدمی کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اس کے بعد وہ یہ کہے کہ معاف کیجئے گا ، میں بھی ایک بار اس عجیب گھڑی کا تجربہ کرنا چاہتا ہوں۔ مراری باپو نے اچھی زندگی کا خلاصہ تین لفظوں میں بتایا ۔ ہمارے پاؤں میں بل ہو ۔ ہمارے ہاتھوں میں پیل ہو۔ ہماری آنکھوں میں جل ہو۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ بل اہنکار شونیہ ہو ۔ پھل ادھیکا رشونیہ ہو اور جل پریم اور کرونا کا جل ہو۔

مراری باپونے اپنی بات کی وضاحت کے لئے ایک اور قصہ سوامی ویویکا نند کا سنایا۔ سوامی جی ایک بار کسی عیسائی کے یہاں گئے۔ اس نے اپنے کمرہ میں کچھ کتابیں اس طرح رکھیں کہ سب سے نیچے رام چرت مانس تھی۔ اس کے اوپر مختلف مذہبوں کی کتابیں، اور پھر سب سے اوپر بائبل۔ سوامی ویویکا نند جب کمرہ میں داخل ہوئے تو اس نے مسکرا کر کہا کہ سوامی جی ، اس کو دیکھئے۔ سوامی ویویکانند اس پر برہم نہیں ہوئے کہ ان کی مقدس کتاب سب سے نیچے رکھی ہوئی ہے۔ انہوں نے اطمینان کے ساتھ کہا: فاؤنڈیشن تو بہت سندر ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ آدمی کس طرح اپنے مائنس کو پلس میں تبدیل کر سکتا ہے۔

مراری باپونے ایک اور قصہ اس طرح بتایا کہ ایک باپ اپنے بیٹے کو ہر ہفتہ دس روپیہ جیب خرچ دیتا تھا۔ بیٹا اس کو خرچ نہیں کرتا تھا بلکہ رہ امائن کے اندر رکھ دیتا تھا جو اس کی میز پر کھلی پڑی ہوئی تھی۔ اس طرح بہت سے روپئے اس کے اندر اکٹھا ہو گئے ۔ باپ نے دیکھا تو کہا کہ تم کو پیسہ یہ رکھنا تھا تو کہیں بند کر کے رکھتے۔ اس طرح تو وہ چوری ہو سکتا ہے۔ بیٹے نے جواب دیا کہ میرا پیسہ یہاں سب سے

‹ Previous page Next page › Contents of June 1996 All issues

Printed page