۳۵ الرسول جون ۱۹۹۶
الرسالہ، جون ۱۹۹۶، صفحہ ۳۹
زیادہ محفوظ ہے ۔ کیوں کہ جو چور ہوگا وہ راما ئن کھولے گا نہیں ۔ اور جو راما ئن کھولے گا وہ چوری کریگا نہیں۔
مراری باپو کی کتھا کے آخر میں میں نے دیکھا کہ سیکڑوں لوگ اپنی جگہ پر کھڑے ہو گئے ہیں ۔ میں نے سمجھا کہ یہ لوگ شاید اٹھ اٹھ کر جا رہے ہیں۔ مگر وہاں معاملہ دوسرا تھا۔ یہ لوگ اٹھ کر نہایت جوش کے ساتھ بالکل وارفتگی کے عالم میں زور زور سے تالیاں بجانے لگے۔ ایک صاحب نے اس کو روحانی کیفیت سے تعبیر کیا۔ میں نے کہا کہ اگر یہ روحانیت ہوتو تماشاآخر کس چیز کا نام ہوگا۔ دہلی سے ڈاکٹر مہندر سنگھ بھی آئے تھے۔ ایک گفتگو کے دور ان انھوں نے کہا کہ ہم تو اپنے کو مائنارٹی سمجھتے ہی نہیں۔ آپ دیکھئے سکھ لوگ اس ملک میں صرف دو فیصد ہیں۔ مگر یہاں کے باب اور یہاں کی اقتصادیات میں انھوں نے ۲۵ فیصد پر قبضہ کر رکھا ہے۔ پھر مائناریٹی کہہ کر ہم کیوں اپنے آپ کو گھٹائیں۔
اکال تخت کے چیف جتھے دار بھی یہاں آئے ہیں۔ ایک بار ہم دونوں ایک ہی کار میں سفر پر تھے۔ روپہلے رنگ کی ایک چھوٹی کرپان وہ کندھے سے لٹکائے ہوئے تھے اور سنہرے رنگ کی بڑی تلوار اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ یہ سوا دو سو سال پرانی ہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا یہ کبھی استعمال ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ تو ایک سمبل ہے روحانی اتھارٹی کا۔ استعمال کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔
۳۰ جولائی کی شام کو ایشین ایج کی ٹیم اور سن رائز ریڈیو کی ٹیم قیام گاہ پر آئی۔ دونوں نے الگ الگ تفصیلی انٹرویو لیا۔ ایشین ایج کا انٹرویو انگریزی میں تھا، اور سن رائز ریڈیو کا ہندی پروگرام“ کے تحت ہندی ( آسان اردو ) میں۔
ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ ایشیائی کمیونٹی جو برطانیہ میں رہتی ہے، اس کے لئے یہاں باعزت زندگی حاصل کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے۔ یہ کہ وہ یہاں لینے والے گر وہ (taker group) بن کر نہ رہیں بلکہ دینے والے گروہ (giver group) بن جائیں۔ یہاں کے باشندوں کو محسوس ہو کہ آپ ان کے لئے نفع بخش گروہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ زندگی کا یہی واحد راز ہے، باہر کے دیش میں اور خود اپنے دیش میں بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1996 All issues