۴۵ المر سال جون ۱۹۹۴
الرسالہ، جون ۱۹۹۶، صفحہ ۷
بھوپال کے سالانہ تبلیغی اجتماع (۱۶ - ۱۸ اکتوبر ۱۹۹۵) میں ہر سال کی طرح اس بار بھی مکتبہ الرسالہ کا اسٹال لگایا گیا۔ ہر طبقہ کے تعلیم یافتہ افراد نے الرسالہ مشن سے دلچسپی کا اظہار کیا اور بڑی تعداد میں کتابیں حاصل کیں۔
۱۱ نومبر ۱۹۹۵ کوکانسٹی ٹیوشن کلب (نئی دہلی) میں ایک سیمینار ہوا۔ اس کا موضوع مذہب، سیاست اور جرائم تھا۔ صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی۔ اور موضوع پر ایک تقریر کی۔ انھوں نے بتایا کہ مذہب بذات خود محبت اور انسانیت کی تعلیم دیتا ہے۔ مگر کچھ لوگ مذہب کا غلط استعمال کرکے اس کو بدنام کرتے ہیں۔ تاہم مذہب کے بارے میں رائے قائم کرنے کے لئے مذہب کی اصولی تعلیمات کو دیکھنا چاہئے نہ کہ کچھ لوگوں کی طرف سے مذہب کے غلط استعمال کو۔
۱۳ نومبر ۱۹۹۵ کو صدر اسلامی مرکز نے میوات (ہریانہ) کا دورہ کیا۔ اس سلسلہ میں مختلف لوگوں سے ملاقات کی۔ اور علاقہ کے حالات کا جائزہ لیا۔ اس دورہ کی تفصیل ان شاء اللہ "نیا میوات" کے عنوان سے الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔ جاپان ایمبیسی (نئی دہلی) میں ۲۲ دسمبر ۱۹۹۵ کو ایک علمی میٹنگ ہوئی۔ اس میں جاپان کے سفیر کے علاوہ ٹوکیو یونیورسٹی کے دو جاپانی پروفیسر ڈاکٹر یاماکاجی (Yamakage) اور ڈاکٹر یموچی (Dr. M. Yamauchi) شریک ہوئے۔ دہلی کے کچھ سنیئر پروفیسر بھی اس میں موجود تھے۔ صدر اسلامی مرکز نے سفیر جاپان کی دعوت پر اس میں شرکت کی۔ انھوں نے وہاں اپنی تقریر میں کہا کہ انڈیا سب سے بڑا مسلم ملک ہے۔ اور یہاں مسلمانوں کے لئے دوسرے مسلم ملکوں سے زیادہ مواقع حاصل ہیں۔
فاؤنڈیشن آف ایمیٹی اینڈ نیشنل سالیڈیریٹی (دہلی) کی طرف سے ۲۳ دسمبر ۱۹۹۵ کو پارلیمنٹ انکسی میں ایک فنکشن بڑے پیمانہ پر کیا گیا۔ یہ فاؤنڈیشن کی گیارہویں سالگرہ پر کیا گیا تھا۔ اس میں پرائم منسٹر نرسمہا راؤ بھی شریک ہوئے۔ صدر اسلامی مرکز نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا مسلمانوں کے لئے پرابلم نظری نہیں ہے۔ یہاں ان کے لئے ہر قسم کی ترقی کے امکانات موجود ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1996 All issues