Al-Risala · June 1996 · page 14

۴۵ المر سال جون ۱۹۹۴

الرسالہ، جون ۱۹۹۶، صفحہ ۱۴

سری نگر کی ٹی وی ٹیم نے ۲۴ دسمبر ۱۹۹۵ کو صدر اسلامی مرکز کے پانچ لکچر ریکارڈ کئے۔ ان تقریروں کامشترک موضوع تھا: جدید دور میں اسلامی فکر ۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام ہماری زندگی کے ہر مرحلہ میں کامیاب رہنمائی دیتا ہے ۔ تاہم ہر زمانہ میں ضرورت ہوتی ہے کہ نئے حالات کو سمجھا جائے اور اسلام کو از سر نو وقت کے حالات پر منطبق کیا جائے ۔

میڈیا اسٹار ( نئی دہلی ) کے نمائندہ مسٹر نقوی نے ۴ اپریل ۱۹۹۶ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر شخصی تجربات اور الرسالہ مشن کے بارے میں تھا۔ آنے والے ملکی انتخابات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ موجودہ حالت میں ہندوستانی ووٹر کے لیے جو چوائس ہے وہ مسٹر کرپٹ اور مسٹر کلین کے درمیان نہیں ہے ۔ بلکہ اصل چوائس مسٹر کرپٹ اور شری بھر شٹ کے درمیان ہے۔ ایسی حالت میں ملک کے سیاسی مستقبل کی تعمیر کے لیے الیکشن کا رول بہت کم ہو جاتا ہے۔ ارن کول پروڈکشن (نئی دہلی) نے دور درشن کے لئے صدر اسلامی مرکز کا انٹرو ۲۶ دسمبر ۱۹۹۵ کو ریکارڈ کیا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ کشمیر کے مسلمان اقبال کے پرستار ہیں۔ مگر وہ اقبال کے اس شعر کا مصداق بن رہے ہیں:

تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا ورنہ گلشن میں علاج تنگی داماں بھی ہے انگریزی روز نامہ انڈین ایکسپریس کے اسسٹنٹ ایڈیٹر پارسا و نکیٹشور راؤ نے ۲۶ دسمبر ۱۹۹۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا تعلق زیادہ تر ہندوستانی مسلمانوں کے تازہ مسائل سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ ہندوستانی مسلمان اب مایوسی کے دور سے نکل کر امید اور اعتماد کے دور میں پہنچ گئے ہیں۔ اب کوئی بھی چیز ان کی ترقی کو روکنے والی نہیں۔

کیتھڈرل چرچ آف ریڈیمپشن (نئی دہلی) میں کرسمس کے موقع پر ۲۷ دسمبر ۱۹۹۵ کو ایک اجتماع ہوا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور مختلف فرقوں او مذہبوں کے درمیان میل ملاپ کے موضوع پر ایک تقریر کی۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1996 All issues

Printed page