Al-Risala · June 1996 · page 49

۴۵ المر سال جون ۱۹۹۴

الرسالہ، جون ۱۹۹۶، صفحہ ۴۹

ہندی اخبار راشٹریہ سہارا کی نمائندہ مسز پنچنا نے ۲۹ دسمبر ۱۹۹۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس سے تھا کہ ۱۹۹۶ ملک کے لئے کیسا سال ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ خدا نے اس دنیا کا نظام اس طرح بنایا ہے کہ یہاں ہر نراشا کے ساتھ ایک آشا کا پہلو موجود ہو۔ اس لئے یقینی ہے کہ آنے والا سال امیدوں کا سال ہوگا۔

۲۲| اکھل بھارتیہ رچناتمک سماج کے تحت چتر کوٹ (مدھیہ پردیش) میں ۳۰ - ۳۱ دسمبر ۱۹۹۵ کو آل انڈیا سمیلن ہوا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ وہاں خطابات اور ملاقاتوں کا پروگرام رہا۔ اس کی تفصیل انشاء اللہ الرسالہ میں سفرنامہ کے ذیل میں شائع کر دی جائے گی۔

۲۳| ہندی روزنامہ ہنستتان (دہلی) کے نمائندہ مسٹر اودھیش کمار نے ۲ جنوری ۱۹۹۶ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ہندوستانی مسلمانوں کے سیاسی مسائل سے متعلق تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ مسلمانوں کے لئے بہترین انتخابی پالیسی یہ ہے کہ اس معاملہ میں وہ کوئی آل انڈیا پالیسی نہ بنائیں بلکہ مقامی حالات کے لحاظ سے اپنی پالیسی وضع کریں۔

۲۴| آل انڈیا ریڈیونئی دہلی سے ۱۲ جنوری ۱۹۹۶ کو صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر نشر کی گئی۔ اس کا عنوان تھا: معاشرہ کی تعمیر و تشکیل میں مذاہب کا رول۔ اس میں بتایا گیا کہ معاشرہ کو بنانے میں مذہب کا رول نہایت بنیادی ہے۔ انسانی معاشرہ میں اسی وقت سے بگاڑ آملے جب کہ اس پر سے مذہب کا اثر کم ہو گیا۔

۲۵| سمواد پر پیکر ما ٹیلیوثرن کی ٹیم نے اے این آئی کے لئے ۵ جنوری ۱۹۹۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس سے تھا کہ اگلے الیکشن میں مسلمانوں کی سیاست کا رخ کیا ہوگا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمان اب زیادہ حقیقت پسند ہو گئے ہیں۔ امید ہے کہ اس بار ان کی بڑی تعداد منفی ووٹ نہ دے کر مثبت ووٹ دے گی۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1996 All issues

Printed page