اعلیٰ اخلاق
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۶، صفحہ ۴
اعلیٰ اخلاق
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں کے لیے اسوہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ کا اخلاق تمام امت کے لیے نمونہ ہے۔ آپ کا اخلاق کیا تھا، اس کی بابت قرآن (القلم (۴) میں ارشاد ہوا ہے کہ بیشک تم ایک اعلیٰ اخلاق پر ہو ( وانّک لعلٰی خلقٍ عظیم) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام امت کو اسی بلند اخلاقی کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا :
لا تکونوا امّعةً تقولون إن احسن تم لوگ امعہ نہ بنو کہ یہ کہنے لگو کہ اگر لوگ ہمارے ساتھ الناسُ أحسنا وإن ظَلموا ظلمنا اچھا کریں تو ہم بھی اچھا کریں اور لوگ ہمارے ولكن وطّنوُا انفسکم ، ان احسن اوپر ظلم کریں گے تو ہم بھی ظلم کریں گے۔ بلکہ تم اپنے آپ الناسُ ان تُحسنوا وإن اساؤا کو اس کے لیے آمادہ کرو کہ لوگ اچھا سلوک کریں تو فلا تظلموا۔ تم بھی اچھا سلوک کرو اور اگر وہ برا سلوک کریں تو تم ان کے ساتھ ظلم نہ کرو۔
( )
اچھے کے ساتھ اچھا اور برے کے ساتھ برا __ یہ لین دین والا اخلاق ہے ۔ اس قسم کے اخلاق کی اللہ کے نزدیک کوئی وقعت نہیں۔ جو آدمی اپنے عمل کی قیمت دنیا ہی میں لے لے اس نے گویا دنیا ہی میں اپنا معاملہ برابر کر لیا ۔ اس کے عمل کی آخرت میں کیا قیمت ہو سکتی ہے ۔ حقیقی اخلاق وہ ہے جو اعلیٰ اخلاق ہو، جو اصول کی پابندی میں برتا گیا ہو نہ کہ مفاد اور مصلحت کی پابندی میں ۔ اعلیٰ اخلاق سے مراد وہ اخلاق ہے جب کہ آدمی دوسروں کے رویہ سے بلند ہو کر عمل کرے۔ اس کا طریقہ یہ نہ ہو کہ برائی کرنے والوں کے ساتھ برائی اور بھلائی کرنے والوں کے ساتھ بھلائی۔ بلکہ اخلاق اس کے لیے ناقابل تغیر اصول کی حیثیت رکھتا ہو۔ وہ دوسروں کے رویہ سے بے پروا ہو کر خود اپنے اصول کے تحت اپنی روش کا تعین کرے ۔ وہ ہر ایک کے ساتھ بھلائی کرے، خواہ دوسرے لوگ اس کے ساتھ بر اسلوک ہی کیوں نہ کر رہے ہوں ۔
یہی سچا اسلامی اخلاق ہے۔ اس قسم کا اخلاق ثابت کرتا ہے کہ آپ ایک با اصول انسان ہیں۔ حالات آپ کے کردار کا تعین نہیں کرتے بلکہ خود آپ کا سوچا سمجھا اصول آپ کے کردار کا تعین کرتا ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1996 All issues