Al-Risala · July 1996 · page 5

چپ رہنا

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۶، صفحہ ۵

چپ رہنا

عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : من صمت نجا۔ یعنی جو شخص چپ رہا اس نے نجات پائی (مشکوۃ المصابیح ۳/ ۱۳۶۰) ، اسی طرح ایک اور روایت کے مطابق ، آپ نے فرمایا : الصمت حکم وقيل فاعله ۔ یعنی خاموشی حکمت ہے ۔ مگر بہت کم ہیں جو اس پر عمل کرتے ہوں (المفردات فی غريب القرآن ، ۱۲۷)

خاموشی بے عملی نہیں ، خاموشی خود ایک اعلیٰ ترین عمل ہے ۔ انسان کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا صاحبِ دماغ ہونا ہے ۔ اور خاموشی اس بات کی علامت ہے کہ آدمی واقعۃً دماغ والا انسان ہے ۔ وہ اپنے اندر ذہنی عمل کی صلاحیت رکھتا ہے ۔

چپ رہنا سوچنا ہے ۔ جب آدمی چپ ہو تو وہ سادہ طور پر صرف چپ نہیں ہوتا ، وہ اس وقت غوروفکر میں مشغول ہوتا ہے ۔ اور غوروفکر بلاشبہ سب سے بڑا عمل ہے ۔ بولنا اگر اعضا و جوارح کی حرکت کا نام ہے تو چپ رہنا دماغ کی حرکت کا نام ۔ بولنا اگر آدھا عمل ہے تو چپ رہنا پورا عمل ۔ چپ رہنا سنجیدگی کی علامت ہے ۔ جب آدمی چپ ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ باتوں کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ وہ بولنے سے پہلے یہ سوچ رہا ہے کہ کیا بولے اور کیا نہ بولے ۔ وہ دوسروں کو مخاطب بنانے سے پہلے خود اپنے آپ کو مخاطب بنا رہا ہے ۔ وہ عاجلانہ اقدام کے بجائے سوچے سمجھے اقدام کا منصوبہ بنانے میں مشغول ہے ۔

بولنا بے صبری ہے اور چپ رہنا صبر ہے ۔ بولنا بے احتیاطی ہے اور چپ رہنا احتیاط ہے ۔ بولنا غیر ذمہ دارانہ انداز ہے اور چپ رہنا ذمہ دارانہ انداز ۔ بولنا محدودیت ہے ۔ جو آدمی بول دے اس کی گویا حد آگئی ، مگر چپ رہنا لامحدودیت ہے ۔ جو آدمی چپ ہو وہ اٹھاہوادہ آدمی ہے ۔ وہ ایسا آدمی ہے جس کی ابھی حد نہیں آئی۔ بولنے والا آدمی فوراً بول پڑتا ہے ، اور چپ رہنے والا آدمی اس وقت بولتا ہے جب کہ تمام لوگ اپنے الفاظ ختم کر چکے ہوں ۔

اسلام آدمی کے اندر خود احتسابی اور غوروفکر کا مزاج بناتا ہے ۔ وہ ایسے افراد تیار کرتا ہے جو سو چنے والے ہوں ، جو بولنے سے زیادہ چپ رہنے کو محبوب رکھتے ہوں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1996 All issues

Printed page