مسلمانوں کا سیاسی المیہ
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۶، صفحہ ۱۸
اچانک وہ دیکھیں گے کہ ملک کے اندر ان کی تصویر بدل گئی ہے۔ اس کے بعد وہ اس ملک میں بوجھ نہیں سمجھے جائیں گے بلکہ وہ ملک کا قومی اور سیاسی اثاثہ بن جائیں گے۔ اور جس دن ایسا ہوگا اسی دن اس ملک میں مسلمانوں کے لئے شاندار سیاسی مستقبل کا آغاز ہو جائے گا۔ ہندوستان میں بلاشبہ مسلمانوں کے لئے ایک عظیم سیاسی مستقبل کی تعمیر کے امکانات پوری طرح موجود ہیں۔ مگر اس سیاسی مستقبل کو پانے کا راز الیکشن میں کسی کے موافق یا کسی کے خلاف ووٹ دینے میں نہیں ہے۔ اس کا راز خود اپنی شعوری اور سیاسی اصلاح میں ہے۔ اس کے اسباب مسلمانوں کے اپنے اندر ہیں نہ کہ ان کے باہر۔
اس وقت ملک کے تعلیم یافتہ طبقہ میں ہر جگہ یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ ملک کا قومی ایجنڈا کیا ہو۔ اس کے لئے میٹنگیں ہو رہی ہیں۔ ہندی اور انگریزی اخبارات میں کثرت سے مضامین چھپ رہے ہیں۔ مستقل کتابیں لکھی جا رہی ہیں۔ مگر ان سرگرمیوں میں مسلمان کہیں دکھائی نہیں دیتے ۔ اس پورے معاملے سے وہ تقریباً غیر متعلق ہیں۔
مسلمانوں کے اخبارات میں یا ان کے اجتماعات میں اکثر اس موضوع پر بحث ہوتی ہے کہ مسلمانوں کی اپنی سیاسی جماعت بنائی جائے ۔ مگر اس قسم کی فرقہ وارانہ سیاسی جماعت مسلمانوں کے مسائل میں صرف اضافہ کرنے والی ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ مسلمان قومی سیاسی جماعتوں میں شریک ہوں۔ وہ ان کے تنظیمی ڈھانچہ میں شامل ہو کر اپنے آپ کو وہاں پہنچائیں جہاں سیاسی معاملات پر فیصلے کئے جاتے ہیں۔
اس وقت مسلمان اس ملک میں صرف ایک شکایتی گروہ کی حیثیت سے نظر آتے ہیں۔ مثبت معنوں میں وہ ایک سیاسی وجود کی حیثیت سے کہیں دکھائی نہیں دیتے، نہ فکری مجالس میں اور نہ عملی سرگرمیوں میں ۔ مسلمان اگر اس خلا کو پر کر سکیں اور پوری طرح ملک کے سیاسی عمل (پولیٹیکل پراس) میں شامل ہو جائیں تو مجھے یقین ہے کہ وہ اس ملک کے لئے ایک سیاسی سرمایہ بن سکتے ہیں حتی کہ وہ وقت آئے گا جب کہ وہ اس ملک میں پرائم منسٹر کا عہدہ حاصل کر لیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1996 All issues