Al-Risala · July 1996 · page 17

مسلمانوں کا سیاسی المیہ

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۶، صفحہ ۱۷

نام دکھائی دیتے ہیں ۔ مگر وہ ہمیشہ کسی نہ کسی کے خلاف مسلم رد عمل کے ہم معنی ہوتے ہیں۔ وہ ملک کے قومی سیاسی عمل میں مسلمانوں کی شرکت کے ہم معنی نہیں ہوتے ۔

دوسری ضروری بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر صحیح نوعیت کا سیاسی شعور پیدا کیا جائے ۔ انھیں بتایا جائے کہ رد عمل یا منفی ووٹ کا نام سیاست نہیں ہے بلکہ مثبت سیاسی کردار ادا کرنے کا نام سیاست ہے ۔

مسلمانوں کو جاننا چاہئے کہ الیکشن کے موقع پر ایک پارٹی کو ہرانا اور دوسری پارٹی کو جتانا ، یہ کوئی سیاست نہیں ہے ، یہ تو بس ایک قسم کی سیاسی اچھل کود ہے ۔ اس قسم کی سیاسی اچھل کود سے مسلمانوں کا سیاسی معاملہ نہ درست ہوا ہے اور نہ آئندہ کبھی درست ہونے والا ہے ۔

مسلمانوں کو ملک کی سیاسی فضا میں اپنے مثبت وجود کا احساس دلانا ہوگا۔ انھیں ملک کے اندر جاری سیاسی عمل میں فعال طور پر شریک ہونا پڑے گا۔ انھیں قومی سطح پر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ملک کی سیاسی ترقی میں ان کی حصہ داری نہایت اہمیت رکھتی ہے۔ مثلاً مغربی ایشیا کے مسلم ملکوں اور ہندوستان کے درمیان اچھے تعلقات قائم کرنے کے لئے وہ ایک اہم کڑی بن سکتے ہیں یا بین الالاقوامی تنظیموں میں شامل مسلم ممالک کا تعاون ہندوستان کے حق میں لینے کے لئے وہ مفید کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ وغیرہ ۔

مگر موجودہ صورت حال کے باقی رہتے ہوئے ان میں سے کوئی بھی چیز ہمارے لئے ممکن نہیں۔ مثال کے طور پر مسلمانوں کے رہنما ، خواہ وہ بے ریش ہوں یا با ریش ، جب مسلم ملکوں یا عرب ملکوں میں جاتے ہیں تو ان میں سے ہر ایک بلا استثناء یہ کرتا ہے کہ ان ملکوں میں وہ ہندوستان کی منفی تصویر پیش کرتا ہے ۔ وہ ہندوستان کو ایک مسلم مخالف ملک کے طور پر پروجیکٹ کرتا ہے ۔ اس نا عاقبت اندیشانہ روش کو جاری رکھتے ہوئے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ ان مسلم ملکوں کو ہندوستان کے حق میں کسی سیاسی تعاون پر آمادہ کر سکیں جس کا وزن ہندوستان میں عمومی طور پر محسوس کیا جائے اور نتیجہ ملک میں مسلمانوں کے درجہ کو بڑھانے والا ثابت ہو ۔

ہندوستان کے مسلمان اگر اس قسم کا بین اقوامی رول ادا کریں ، جو یقینی طور پر ممکن ہے ، تو

‹ Previous page Next page › Contents of July 1996 All issues

Printed page