Let Churchill go to hell. Come on.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۶، صفحہ ۴۴
کانفرنس میں ایک سازش کے تحت بلایا گیا تھا تا کہ لندن میں مقیم سکھ انتہا پسندوں کو مین اسٹریم میں لایا جائے اور خالصہ تحریک کو سبوتاژ کیا جا سکے۔ اس مقصد کے لئے را (RAW) نے ان کو بیرونی کرنسی میں ایک کروڑ روپیہ سے زیادہ (Rs. 1.5 crore) کی رقم ادا کی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا (۲۲ اگست ۱۹۹۳) کی ایک رپورٹ کے مطابق ، چیف جھتے دار نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ سفر سکھ ازم کے پر چارہ کے لئے تھا :
He clarified that his visit was to propagate Sikhism. پر وفیسر منجیت سنگھ کے سفر کو دورخ سے دیکھا جا سکتا تھا۔ ایک یہ کہ وہ دوسروں سے لینے کے لئے گئے ہیں اور دوسرے یہ کہ وہ دوسروں کو دینے کے لئے وہاں گئے ہیں۔ سکھ نوجوانوں نے ان کے سفر کو پہلے رخ سے دیکھا اس لئے وہ غلط فہمی میں پڑ گئے۔ اگر وہ ان کے سفر کو دوسرے رخ سے دیکھتے تو وہ خوش ہوتے اور ان کی مذمت کرنے کے بجائے ان کو مبارک باد کا ٹیلیگرام بھیجتے۔ برطانیہ کے ایک عام آدمی سے ملاقات ہوئی گفتگو کے دوران اس نے ایک لطیفہ سنایا۔ اس نے بتایا کہ مسٹرونسٹن چرچل جب پرائم منسٹر نہیں ہوئے تھے، اس وقت ان کا بی بی سی پر ریگولر پروگرام ہوا کرتا تھا۔ ایک روز چرچل کا پروگرام تھا۔ وہ گھر سے نکلے تو کچھ دیر ہو گئی تھی۔ انھیں فوراً بی بی سی کے آفس میں پہنچنا تھا۔ انھوں نے ایک ٹیکسی والے کو آواز دی۔ اس نے منع کر دیا۔ اس نے کہا کہ اس وقت مجھے فوراً گھر پہنچنا ہے اور وہاں چرچل کو سننا ہے۔ چرچل نے اپنا نام نہیں بتایا۔ انھوں نے کہا کہ مجھ کو بی بی سی کے دفتر پہنچا دو، میں تم کو ستر پونڈ دوں گا۔ ستر پونڈ اصل کرایہ سے دس گنا زیادہ تھا۔ ٹیکسی والے نے جب ستر پونڈ کا لفظ سنا تو بولا: چرچل بھاڑ میں جائے۔ آؤ میں تم کو لے چلتا ہوں :
Let Churchill go to hell. Come on.
ایک اور برطانی آدمی سے ایک بار بات ہو رہی تھی۔ کسی معاملہ میں وہ اپنے نقطہ نظر کو بتا رہا تھا۔ اس درمیان میں بے ساختہ طور پر اس کی زبان سے نکلا :
It is a far cry to London.
مجھے یاد آیا کہ یہ ” ہنوز دلی دور است “ کا انگریزی استعمال ہے۔ زبانوں میں یہ یکسانیت
‹ Previous page Next page › Contents of July 1996 All issues