It is a far cry to London.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۶، صفحہ ۴۹
میں کہا گیا کہ ہندوستان اور پاکستان کو چاہئے کہ اس معاملہ کو شملہ ایگریمنٹ کی روشنی میں طے کریں جس پر دونوں ملکوں کے رہنماؤں نے ۱۹۷۲ میں دستخط کئے تھے۔ صدر اسلامی مرکز نے ۹۔ ۱۱ مارچ ۱۹۹۶ کو مراد آباد کا سفر کیا۔ وہاں مختلف قسم کے پروگرام اور ملاقاتیں ہوئیں۔ ہندی اخبار امر اجالا کے نمائندہ نے تفصیلی انٹرویو لیا جو اخبار کے ۱۱ مارچ کے شمارہ میں چھپا۔ اس سفر کی رو داد انشاء اللہ سفر نامہ کے تحت الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔
ہفت روزہ نئی دنیا کے نمائندہ مسٹر دودسا جد نے ۱۳ مارچ ۱۹۹۶ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق اس خبر سے تھا کہ ایران کی حکومت نے سلمان رشدی کے قتل کے فتوے کو واپس لے لیا ہے۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ یہ واپسی یقیناً قابل تعریف ہے، تاہم ضرورت ہے کہ اسی کے ساتھ یہ اعتراف کیا جائے کہ یہ ایک لغو فتویٰ تھا۔ اسلام میں کسی جرم پر سزا کا مسئلہ قضا (عدالت) کا مسئلہ ہے، وہ کسی انفرادی عالم کے فتوے کا مسئلہ نہیں۔ اس لئے اس کا بھی اعلان کیا جانا چاہئے کہ آئندہ ایسی جسارت کبھی نہیں کی جائے گی۔
راشٹریہ جاگرتی سنستھان کے تحت ۱۵ مارچ ۱۹۹۶ کو انڈیا انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں ایک سیمینار ہوا جس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے۔ اس کا مقصد ترجیحی بنیاد پر نیشنل ایجنڈا تلاش کرنا تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔ انھوں نے بتایا کہ موجودہ حالات میں اہم ترین اشو یہ ہے کہ دستور ہند کی دفعہ ۴۵ کے تحت عمومی تعلیم کو قومی نشانہ بنایا جائے، یہاں تک کہ پوری قوم صد فی صد تعلیم یافتہ ہو جائے۔
وائلٹ گراف (Violette Graff) فرانس کی ایک خاتون پروفیسر ہیں۔ وہ پیرس میں رہتی ہیں۔ (Tel. 1-43364153) اور ہندوستانی مسلمانوں پر ریسرچ کر رہی ہیں۔ اس سلسلہ میں انھوں نے ۱۸ مارچ ۱۹۹۶ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ آخر میں انھیں انگریزی الرسالہ اور انڈبن مسلمس بطور ہدیہ دی گئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1996 All issues