Al-Risala · July 1996 · page 48

It is a far cry to London.

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۶، صفحہ ۴۸

۱۹۹۶ کو ایک آل انڈیا سیمینار ہوا۔ اس میں تقریباً ۹۰ کی تعداد میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے۔ اس کا ایجنڈا اینشن بلڈنگ تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور اپنے خیالات پیش کئے ۔ تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ ملک کے جو مسائل ہیں وہ کسی وقتی تدبیر سے حل نہیں ہو سکتے۔ تمام مسائل کی جڑ تعلیم کی کمی ہے۔ اس لئے سب سے پہلا کام یہ ہے کہ عمومی سطح پر لوگوں کو تعلیم یافتہ بنایا جائے ۔ دہلی سے نکلنے والے ملیالم اخبار نئی دہلی انو (New Delhi Innu) کے ایسوسی ایٹ ایڈیٹر مسٹر راجیش (Rajesh Chombala) نے ۲۵ فروری ۱۹۹۶ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ملکی مسائل سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ الیکشن یا تبدیلیوں سے ملک میں کوئی انقلاب آنے والا نہیں۔ تعمیری انقلاب کے لئے لمبی مدت تک کام کرنا پڑے گا۔

سنٹر فار پیس اینڈ پراگریس کی طرف سے ۲۹ فروری ۱۹۹۶ کو انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ایک سیمینار ہوا۔ اس کا عنوان تھا : ریلیجن اینڈ پالٹی ٹکس ۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور موضوع پر اپنا نقطۂ نظر پیش کیا۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ سیاسی اغراض کے لئے مذہب کا ایکسپلاٹیشن غلط ہے۔ لیکن اگر مہند مذہب کی اخلاقی قدروں کو سیاست پر منطبق کیا جائے تو یہ ایک درست بات ہوگی ۔

بزنس انڈیا ٹیلیویژن انٹرنیشنل کی ٹیم نے یکم مارچ ۱۹۹۶ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس کا تعلق ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل اور ان کی انتخابی پالیسی سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ ہندوستانی مسلمانوں کے تمام مسائل کی واحد ذمہ داری ان کے نااہل لیڈروں پر ہے۔ اگر یہ نام نہاد لیڈر چپ رہتے تو کبھی ہندو اور مسلمان کی کشمکش پیدا نہ ہوتی۔ فطرت کے قانون کے تحت دونوں مل جل کر رہتے اور ترقی کرتے۔

دنیش شرما اور ان کی ٹیم نے ۸ مارچ ۱۹۹۶ کو دور درشن کے لئے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر کشمیر کے مستقبل سے تھا۔ ایک سوال کے جواب ۲۸ ماہنامہ جولائی ۱۹۹۶

‹ Previous page Next page › Contents of July 1996 All issues

Printed page