Al-Risala · August 1996 · page 3

اظہار خیال کی آزادی

الرسالہ، اگست ۱۹۹۶، صفحہ ۳

حدیث میں مومن کی صفت یہ بتائی گئی ہے کہ : (الذین اذا اعطوا الحق قبلوی (مسند احمد یعنی کہ جب انھیں کوئی حق دیا جائے تو وہ اس کو قبول کر لیں۔ یہاں حق سے مراد امر حق ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ مومن وہ ہے جس کے اندر اعتراف حق کا مادہ کامل طور پر موجود ہو۔ جب بھی کوئی امن کے سامنے لائی جائے ، جب بھی اس کی کسی غلطی کی نشاندہی کی جائے تو کوئی بھی احساس کے لیے قبول حق کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکے ۔

اس صفت کا کامل درجہ یہ ہے کہ آدمی خود ہی پیشگی طور پر اس انتظار میں رہے کہ کب کوئی نے والا اس کو اس قسم کی کوئی بات بتائے اور وہ خوش دلی کے ساتھ فوراً اسے اپنا لے ۔ وہ اپنی وح اور اپنی درستگی کا حریص بن جائے ۔ یہی مومنانہ کیفیت حضرت عمر فاروق رضی کی زبان سے ان میں ظاہر ہوئی کہ انھوں نے کہا کہ اللہ اس انسان پر رحم کرے جو میرے جو میرے عیوب کا تحفہ مجھے دے رحم الله امرأ اهدى إلى عيوبي)

حقیقت یہ ہے کہ اعتراف حق ایک عبادت ہے ، بلکہ وہ سب سے بڑی عبادت ہے۔ یہ نا ہے جس کے لیے آدمی کو سب سے بڑی قربانی دینا ہوتا ہے، یہ سب سے بڑی قربانی اس کو سے بڑی عبادت بنا دیتی ہے۔ یہ قربانی اپنے وقار کی قربانی ہے۔ یہ اپنی بڑائی کو کھونے کی ہے۔ یہ حق کے لیے اپنے آپ کو بے قیمت کرنے کی قربانی ہے۔ یہ وہ موقع ہے جب کہ آدمی کی قیمت دے کر جنت میں داخلہ کا استحقاق حاصل کر لیتا ہے۔

اس عظیم عبادت اور اس عظیم خوش قسمتی کا موقع کسی کو کب ملتا ہے۔ یہ موقع صرف اس ملتا ہے جب کہ لوگوں کو اظہار خیال کی پوری آزادی ہو ۔ جب کسی رکاوٹ کے بغیر ایک آدمی سے آدمی پر تنقید کر سکے۔ جب معاشرہ میں یہ ماحول ہو کہ کہنے والا بے تکلف اپنی بات کو اور سننے والا کھلے طور پر اس کو سنے۔

جس طرح مسجد نماز با جماعت کی ادائیگی کا مقام ہے ، اسی طرح اظہار خیال کی آزادی گویا وہ نار ماحول ہے جس کے اندر حق کو کہنے اور حق کو قبول کرنے والی عظیم نیکیاں جنم لیتی ہیں۔ رح کے ماحول میں وہ معاملات پیش آتے ہیں جب کہ ایک شخص کو اعلان حق کا کریڈٹ دیا جائے اور وے شخص کو قبول حق کا انعام ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1996 All issues

Printed page