Al-Risala · August 1996 · page 4

خدا کا تخلیقی نقشہ

الرسالہ، اگست ۱۹۹۶، صفحہ ۴

خدا کا تخلیقی نقشہ

دنیا میں ہدایت کا نظام ایمان بالغیب (البقرہ ۳) کے اصول پر قائم ہے۔ یعنی یہاں تم حقیقتوں کو غیر مرئی حالت میں رکھ دیا گیا ہے۔ اب یہ انسان کا کام ہے کہ وہ اپنی فکری قوتوں کو میں لاکر ان پوشیدہ حقیقتوں کو دریافت کرے اور پھر ان کی کامل مطابقت میں اپنی زندگی گزار انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خدا کو اپنا بڑا بنائے، حالانکہ خدا کی بڑائی اس کی آنکھوں سامنے موجود نہیں۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خدا کی پکڑ سے ڈر سے، حالانکہ خدا کی تغذیبی طات دنیا میں کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ اسی طرح انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ داعیان حق کے ساتھ در مگر داعیان حق ہمیشہ عام انسان کے روپ میں سامنے آتے ہیں، ان کو پہچاننا صرف اس کے ممکن ہوتا ہے جو ظاہر سے گزر کر باطن کی سطح پر دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ یہی عام دنیوی چیزوں کا معاملہ بھی ہے۔ دنیا میں بے شمار مادی امکانات تھے۔ مگر وہ ہ زمین کے اندر چھپا کر رکھ دیے گئے۔ ان مادی امکانات کو دریافت کرکے انہیں ایک ترغ تمدن کی صورت دینا، یہ انسان کا کام تھا جو موجودہ زمانہ میں بڑے پیمانہ پر انجام دیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ فطرت کا طریقہ عین وہی ہے جس کو فن تعلیم میں اکتشافی ظ (discovery method) کہا جاتا ہے۔

اس اکتشافی طریقہ کو قابل عمل بنانے کے لیے انسان کو ایک اعلیٰ درجہ کا ذہن دیا گیا جو ایک طور پر ہر قسم کی ضروری صلاحیتوں سے بھرا ہوا تھا۔ انسان کا ذہن اس قابل تھا کہ وہ غور وفکر کر کے اشیاء کی حقیقتوں کو جانے۔ ایک طرف وہ اپنے خالق کو پہچانے، اور دوسری طرف دنیا کے ا چھپی ہوئی مادی نعمتوں کو دریافت کرکے انہیں اپنی تعمیر حیات میں استعمال کرے۔ پیغمبر کی حیثیت اس عمل میں ایک مبتدرہ نما کی ہے۔ خدا کا پیغمبر وہ بنیادی اصول دے ہے جس کی رہ نمائی میں انسان اپنا اکتشافی سفر شروع کرے اور اس کو کامیابی کی منزل تک پہنچا۔ اس طرح جو حقیقت ملتی ہے وہ آدمی کے لیے اس کی ذاتی دریافت ہوتی ہے۔ وہ اس کی پو شخصیت کو متاثر کرتی ہے۔ وہ اس کے لیے ابدی سرمایہ حیات بن جاتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1996 All issues

Printed page