تواصی بالحق
الرسالہ، اگست ۱۹۹۶، صفحہ ۶
تواصی بالحق
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اس دنیا میں خسران اور گھاٹے سے صرف وہ لوگ محفوظ رہے جو تواصی بالحق اور تواصی بالصبر کا کام کریں (سورہ العصر)، اسی طرح قرآن میں خیر امت یا بہتر کرے خاص صفت یہ بتائی گئی ہے کہ ان کے درمیان امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا نظام قائم ہو (آل عمران یہ تواصی بالحق یا امر بالمعروف کیا ہے، وہ حدیث کے الفاظ میں یہ ہے کہ کوئی آدمی جب نادرست بات دیکھے تو وہ اس کو درست کرنے کی کوشش کرے۔ طاقت ہو تو ہاتھ سے طاقت نہ ہو تو زبان سے۔ تواصی بالحق اسی عمل کا ابتدائی درجہ ہے، اور امر بالمعروف اسی عمل کا درجہ باہر ہے۔
اس مطلوب شرعی عمل کو کسی سماج میں جاری کرنے کی پہلی شرط یہ ہے کہ وہاں اظہار کی مکمل آزادی ہو۔ ہر آدمی کے لیے یہ ممکن ہو کہ جب بھی وہ کسی خلاف حق بات کو دیکھے تو وہ کسی رکاوٹ کے بغیر کھلے طور پر اس کے بارہ میں بول سکے۔
اب یہ ظاہر ہے کہ حق اور ناحق کا اصل معیار قرآن و سنت ہے نہ کہ کسی شخص کا اپنا خیال اس لیے جب بھی کوئی شخص اس احساس میں مبتلا ہوگا تو وہ سب سے پہلے زبان یا قلم کے ذریعہ کا اظہار کرے گا تاکہ اس پر بحث شروع ہو۔ اس طرح بحث و مباحثہ کے بعد یہ ثابت ہوگا کہ کہ درست ہے اور کیا چیز نادرست۔ اس طرح ثابت ہونے کے بعد صاحب اثر افراد کا یہ کام کہ وہ اس کو حسب استطاعت عملاً نافذ کریں۔ گویا تواصی بالحق اور امر بالمعروف کی تعلیم کا تقاضا ہے مسلم معاشرہ میں دائمی طور پر اظہار خیال کی آزادی موجود رہے۔ اس قسم کی آزادی کے بغیر یہ شر عمل سرے سے اپنی صحیح صورت میں جاری ہی نہیں رہے گا۔
اسلام چاہتا ہے کہ ہر شخص کو کسی روک ٹوک کے بغیر یہ آزادی حاصل ہو کہ وہ دوسروں کے کے بارے میں اپنی رائے دے سکے۔ اس عمل کے پیچھے اگر واقعۂ نیک جذبہ کار فرما ہوگا تو اس یہ عمل قابل انعام ہوگا۔ اور اگر اس نے کسی برے جذبہ سے یہ کام کیا ہوگا تو وہ خدا کے یہ قابل سزا قرار پائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1996 All issues