Al-Risala · August 1996 · page 7

تواصی بالحق

الرسالہ، اگست ۱۹۹۶، صفحہ ۷

قرآن میں حضرت مسیح کی زبان سے یہ آیت ہے کہ وجعلني مباركاً أينما كنت مريم (14 مجاہد نے اس کی تفسیر میں کہا کہ : معلماً للخير۔ یعنی خدا نے مجھ کو خیر کا معلم بنایا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : المؤمن مرأة المومن (سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب في النصیحۃ) یعنی ایک مومن دوسرے مومن کے لیے آئینہ کی مانند ہے۔ جس طرح آدمی آئینہ کے سامنے کھڑا ہو تو آئینہ کسی کی بیٹی کے بغیر اس کا اصل چہرہ اسے دکھادے گا۔ اسی طرح مومن اپنے بھائی کو اس کی کمیوں سے آگاہ کرتا رہتا ہے، بغیر اس کے کہ وہ اپنے آپ کو اونچا سمجھے اور دوسرے کو نیچا۔

یہی بات دوسری حدیث میں اس طرح ہے کہ : طوبى لعبد جعله الله مفتاحاً للخير مغلاقاً للشر (ابن ماجہ، مقدمہ) یعنی بابرکت ہے وہ بندہ جس کو اللہ نے خیر کا دروازہ کھولنے والا اور شر کا دروازہ بند کرنے والا بنایا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی سچا خدا پرست ہو وہ خیر اور شر کے بارہ میں انتہائی حساس ہوگا۔ اس کی یہ حساسیت اس کو مجبور کرے گی کہ جب بھی وہ کوئی خلاف حق بات دیکھے تو فوراً اس کے بارہ میں اپنے خیالات کا اظہار کرے۔

تاہم یہ بات یک طرفہ نہیں ہے۔ خدا پرستی جس طرح آدمی کے اندر اظہار حق کا جذبہ ابھارتی ہے، اسی طرح وہ قبول حق کا جذبہ بھی آخری حد تک اس کے اندر پیدا کر دیتی ہے۔ ایسا آدمی جس طرح دوسروں کے خلاف تنقید یا اظہار رائے کرتا ہے، وہ خود بھی ہر وقت اس کے لیے تیار رہتا ہے کہ جب بھی اس کے سامنے امر حق پیش کیا جائے وہ فوراً اس کو قبول کرلے۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسروں کے اوپر تنقید کا حق صرف اسی شخص کو ہے جو اسی شدت کے ساتھ خود اپنا بھی احتساب کرتا ہو۔ دوسروں کو نصیحت کرنا اسی کے لیے جائز ہے جو قلب و ذہن کی پوری آمادگی کے ساتھ اس کے لیے تیار رہے کہ جب بھی اس کے سامنے حق پیش کیا جائے گا تو انانیت یا وقار کا سوال اس کے لیے حق کی قبولیت میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔ وہ کھلے دل کے ساتھ فوراً اس کو قبول کرلے گا۔

تواصی بالحق یا امر بالمعروف کا کام اسی وقت مفید ہوسکتا ہے جب کہ وہ دو طرفہ ہو۔ اگر وہ یک طرفہ ہو، ایک سنانے والا ہو اور دوسرا صرف سننے والا، تو ایسے ماحول میں کبھی وہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا جو تواصی بالحق اور امر بالمعروف کے نظام سے مطلوب ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1996 All issues

Printed page