Al-Risala · August 1996 · page 11

نصیحت یا تعییب

الرسالہ، اگست ۱۹۹۶، صفحہ ۱۱

جس معاشرہ میں نصیحت کی فضا ہو وہاں لوگ ایک دوسرے کو اپنا سمجھیں گے۔ لوگوں کے درمیان اعتماد کی فضا ہوگی۔ لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے عزت و محبت کے جذبات ہوں گے۔ کوئی کسی کو غیر نہیں سمجھے گا۔ کوئی کسی کو شک کی نگاہ سے نہیں دیکھے گا۔ کوئی کسی کا استحصال کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔

مزید یہ کہ ایسے ماحول میں جب ایک آدمی دوسرے آدمی کے خلاف کوئی تنقیدی بات کہے گا تو سننے والا اس کو اپنے لیے وقار کا مسئلہ نہیں بنائے گا۔ بلکہ اس کو ایک سادہ بات کے طور پر سنے گا۔ اس طرح یہ ممکن ہو جائے گا کہ دونوں کے درمیان کھلی گفتگو ہو۔ دونوں اپنی ذات کو الگ کرکے خالص حق تک پہنچنے کی کوشش کریں، اور پھر جو بات درست ہو اس کو بخوشی قبول کرلیں۔ اس کے برعکس تعییب (عیب جوئی) کے انداز میں صرف نقصان ہی نقصان ہے۔ عیب جوئی کرنے والے کی بات کو سن کر اگر دوسرا آدمی بھڑک اٹھے تو دونوں میں لڑائی شروع ہو جائے گی جو تمام برائیوں میں سب سے زیادہ سنگین برائی ہے۔ اور اگر بالفرض سننے والا تحمل مزاج ہے اور وہ اپنے خلاف عیب جوئی کو سن کر خاموش رہ جاتا ہے تب بھی وہ نقصان سے خالی نہیں۔ اول یہ کہ عیب لگانے والے نے اپنا وقت ضائع کیا۔ وہ اپنے اس وقت کو کسی صحت مند کام میں استعمال کر سکتا تھا۔ دوسرے یہ کہ معاشرہ کے اندر یہ بری روایت قائم ہوئی کہ ایک دوسرے کے خلاف بے بنیاد الزام تراشی کی جاسکتی ہے ۔

اس معاملہ میں اسلام کی تعلیم اس حدیث میں ملتی ہے کہ جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس کو چاہیے کہ وہ بولے تو بھلی بات بولے ورنہ چپ رہے (من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيرا أو ليصمت)

قول خیر وہ ہے جو ثابت شدہ حقیقت پر مبنی ہو، جس سے کوئی تعمیری فائدہ مقصود ہو۔ جو تمام تر اظہار حق کے جذبہ کے تحت نکلا ہو۔ جو اصلاً خدا کے لیے ہو نہ کہ کسی انسان کے لیے۔ جو آدمی سنجیدہ ہو، جو اللہ سے ڈرتا ہو، اس کے دماغ میں جب کوئی بات آتی ہے تو وہ بولنے سے پہلے سوچتا ہے۔ اگر وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی بات فی الواقع کسی مثبت قدر کی حامل ہے تو وہ بولتا ہے، ورنہ وہ خاموشی اختیار کر لیتا ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1996 All issues

Printed page