Al-Risala · August 1996 · page 12

افکار کا ٹکراؤ

الرسالہ، اگست ۱۹۹۶، صفحہ ۱۲

افکار کا ٹکراؤ

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب آدم کو زمین پر بسایا تو پیشگی طور پر ان کو بتا دیا کہ نسل انسانی ایک دوسرے کی دشمن ہوگی (بعککم لبعض عدو) یہ گویا خدا کے تخلیقی نقشہ کا ایک اعلان تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ انسان جیسی اک مخلوق جب دنیا میں آباد ہوگی تو اس کا یہاں آباد ہونا کوئی سادہ بات نہیں ہوگی۔ یہاں انسانوں کے درمیان اختلاف و نزاع کی صورتیں پیدا ہوں گی جو بعض اوقات شدید ہو کر عداوت تک جاپہنچیں گی۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے لیے اس کے خالق نے ترقی کا کیا کورس مقرر کیا ہے۔ وہ کورس یہ ہے کہ انسانوں کے درمیان خیالات کا ٹکراؤ ہو۔ اس سے انسان کی ذہنی صلاحیتیں جاگیں گی اس کی تخلیقیت میں اضافہ ہوگا۔ اس کے نتیجہ میں وہ نئی نئی دریافتیں کرتا چلا جائے گا۔ افکار کا ٹکراؤ اس کی سوئی ہوئی صلاحیتوں کو جگانے کا سبب بن جائے گا۔

اس پہلو سے دیکھیے تو اظہار رائے کی آزادی انتہائی طور پر ضروری ہے۔ کیوں کہ اگر آزادانہ اظہار رائے نہیں ہوگا تو خیالات کا ٹکراؤ نہیں ہوگا۔ اور جب خیالات کا ٹکراؤ نہیں ہوگا تو ذہنی جمود نہیں ٹوٹے گا۔ انسان نئی حقیقتوں تک پہنچنے میں ناکام رہے گا۔

مثلاً اسلام کے دور اول میں جب قرات کے اختلاف کی بنا پر لوگ قرآن کی تلاوت مختلف انداز سے کرنے لگے تو لوگوں میں یہ بحث شروع ہوگئی کہ کون سی قرأت صحیح ہے اور کون سی قرأت غلط۔ اس کے نتیجہ میں کتابت کے فن نے ترقی کی۔ پھر ایسا ہوا کہ لوگ قرآن کے معانی میں اختلاف کرنے لگے۔ اس نے بھی ایک لسانی بحث کا آغاز کیا جو یہاں تک پہنچا کہ مسلمانوں میں عربی زبان کے ماہرین پیدا ہوئے، اور عربی کی ڈکشنریاں تیار کی گئیں جو پہلے موجود نہ تھیں۔ اسی طرح لوگ شرعی امور میں طرح طرح کے اختلافات کرنے لگے۔ اس کی وجہ سے زبردست بحثیں شروع ہوئیں۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ اسلام میں علم تفسیر، علم حدیث، علم فقہ، علم عقائد اور دوسرے علوم باقاعدہ صورت میں مدون ہو گئے ۔ وغیرہ ۔ دور اول میں اگر یہ اختلافات پیش نہ آتے تو نہ ذہنوں میں بیداری پیدا ہوتی اور نہ علوم و فنون کا ارتقاء ممکن ہوتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1996 All issues

Printed page