Al-Risala · August 1996 · page 14

When all think alike, no one thinks very much.

الرسالہ، اگست ۱۹۹۶، صفحہ ۱۴

فطرت کا نظام

اسلام سے پہلے تقریباً ڈھائی ہزار سال تک انسانی تاریخ کے آثار ملتے ہیں۔ مگر اس لمبی مدت تک انسان کوئی علمی ترقی نہ کر سکا۔ تمام علمی اور سائنسی ترقیاں بعد کو اس وقت شروع ہوئیں جبکہ اسلام نے قدیم شاہانہ جبر کے نظام کو توڑ کر دنیا میں فکری آزادی کے دور کا آغاز کیا۔ اس کا راز یہ ہے کہ ذہنی ترقی ہمیشہ تبادلہ افکار کے ذریعہ ہوتی ہے۔ اور جبر اور تقلید کے نظام) میں افکار کے تبادلہ کا عمل (پر اس) یکسر رک جاتا ہے۔ اسی بات کو امریکی ادیب والٹر لپمان (Walter Lippmann) نے ان لفظوں میں بیان کیا کہ جب تمام لوگ ایک طرح سوچیں تو کوئی بھی شخص بہت زیادہ نہیں سوچتا :

When all think alike, no one thinks very much.

اصل یہ ہے کہ حقائق کی دنیا ایک لامحدود دنیا ہے۔ مگر ایک شخص کا تنہا ذہن صرف محدود طور پر سوچ پاتا ہے۔ اس لیے اگر جبر اور تقلید کا ماحول ہو تو ہر آدمی صرف محدود واقفیت کا حامل ہوگا۔ اس کے برعکس اگر لوگوں کو سوچنے اور بولنے کی آزادی حاصل ہو تو لوگوں کے درمیان خیالات کا تبادلہ شروع ہو جائے گا۔ اب ہر آدمی دوسرے سے سیکھنا شروع کر دے گا۔ اس طرح مجموعی طور پر لوگ بہت زیادہ باتوں کو جان لیں گے۔ اس کے برعکس جہاں ایسا ماحول ہو جس میں تمام لوگ اپنے ہی دائرہ میں سوچیں تو ایسے ماحول میں لوگوں کی مجموعی واقفیت بھی بہت کم ہوگی۔ جب لوگوں کو سوچنے اور بولنے کی کھلی آزادی ہوگی تو لازماً اختلاف رائے پیدا ہوگا۔ لوگ ایک دوسرے کے نقطہ نظر پر تنقید کریں گے۔ یہ تنقیدی عمل ذہنی ارتقاء کا لازمی جزء ہے۔ تنقید کا خاتمہ سادہ طور پر صرف تنقید کا خاتمہ نہیں ہے۔ بلکہ وہ ذہنی ارتقاء کا خاتمہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہمارے لیے انتخاب (چوائس) تنقید اور بے تنقید میں نہیں ہے بلکہ تنقید اور ذہنی جمود میں ہے۔ اگر آپ تنقید کو بند کر دیں تو عملاً جو چیز باقی رہے گی وہ ذہنی جود ہو گا نہ کہ صرف بے تنقید صورت حال۔

فکری آزادی فطرت کے نظام میں معاونت ہے اور فکری پابندی فطرت کے نظام میں رکاوٹ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1996 All issues

Printed page