افکار کا ٹکراؤ
الرسالہ، اگست ۱۹۹۶، صفحہ ۱۳
پھر یہ عمل یہیں نہیں رہا۔ عباسی خلافت کے زمانہ تک پہنچ کر یہ ہوا کہ مسلمان ایشیا اور افریقہ کے پورے علاقہ میں پھیل گئے حتیٰ کہ وہ یورپ کے اندر داخل ہو گئے۔ اب ان کا فکری ٹکراؤ مصر، ایران، یونان، وغیرہ ملکوں کے خیالات و افکار سے ہوا۔ اس کے فطری نتیجہ کے طور پر مسلمانوں کے درمیان عقلی بحثیں شروع ہو گئیں۔ یہ فکری ٹکراؤ آخر کار یہاں تک پہنچا کہ ایک نہایت طاقت ور علم کلام مدون ہو گیا۔ یہ کام زیادہ تر عباسی خلیفہ المامون کے زمانہ میں ہوا۔ المامون نہایت فراخ دل تھا۔ اس نے اس زمانہ کے اہل علم کو اظہارِ خیال کی پوری آزادی دے رکھی تھی؛ و (طلق حریۃ الکلام للباحثین و هل الجدل والفلاسفة (الاعلام (۱۴۲/۴)
پھر یہ سیلاب یہیں نہیں رہا۔ علم و تحقیق کا یہ عمل مزید آگے بڑھ کر دوسرے علمی و فنی شعبوں تک پہنچ گیا۔ مسلمانوں میں فلسفہ، طب، ریاضی، بحریات، فلکیات، ارضیات کے ماہرین پیدا ہوئے ۔ انھوں نے وقت کے تمام سیکولر علوم میں امامت کا درجہ حاصل کر لیا۔
پہلے مسلمانوں کا فکری ٹکراؤ دوسری قوموں سے ہوا تھا۔ جب مسلمان علمی ترقی میں آگے بڑھ گئے تو اب دوسری قوموں کا فکری ٹکراؤ مسلمانوں کے ساتھ پیش آنے لگا۔ اس ٹکراؤ کے دوران مسلمانوں کے پیدا کردہ علوم اٹلی، اسپین، سسلی اور فرانس تک پہنچ گئے۔ اس کے نتیجہ میں یورپ میں نیا سائنسی دور شروع ہوا جو آخر کار موجودہ صنعتی انقلاب تک جا پہنچا۔ مغرب کا سائنسی اور صنعتی انقلاب براہِ راست طور پر دورِ اول کی مسلم بیداری سے ٹکراؤ کا نتیجہ ہے۔ وہی عرب جب تک اپنے ملک کے حدود میں بند تھے وہ کوئی علمی کارنامہ انجام نہ دے سکے۔ مگر جب وہ اپنے ملک سے باہر نکلے اور بیرونی قوموں سے ان کا فکری و ذہنی ٹکراؤ پیش آیا تو انھیں لوگوں نے اتنی ترقی کی کہ وہ علم و فن کے عالمی امام بن گئے۔ یہ سارا معجزاتی واقعہ آزادانہ فکری تبادل کے نتیجہ میں پیش آیا۔
تنقید یا اظہار اختلاف دراصل تبادلۂ افکار ہی کا دوسرا نام ہے۔ کسی معاشرہ میں جتنا زیادہ فکری آزادی ہوگی، اتنا ہی زیادہ وہاں فکری تبادلہ ہوگا، اور اس فکری تبادلہ کے دوران تنقید اور اظہار اختلاف کی صورتیں بھی پیدا ہوں گی۔ فطرت کا مقرر کردہ یہی واحد ترقیاتی کورس ہے، افراد کے لیے بھی اور بحیثیت مجموعی پوری قوم کے لیے بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1996 All issues