Al-Risala · August 1996 · page 22

ظاہر داری نہیں

الرسالہ، اگست ۱۹۹۶، صفحہ ۲۲

ظاہر داری نہیں

قرآن (المائدہ ۱۰۷) میں وراثت کا قانون بتاتے ہوئے ایک آیت یہ آئی ہے کہ: من الذین استحق علیہم الاولیان میں سے جن کا حق دبا ہے جو سب سے قریب ہوں میت کے)، اس آیت کے لفظ الاولیان کی قراءت میں اختلاف ہے۔ حسن نے اس کو الاولان پڑھا ہے، اور ابن سیرین نے اس کو الاولین پڑھا ہے (القرطبی ۳۵۹/۶)

ایک بار ایسا ہوا کہ حضرت ابی بن کعب نے یہ آیت پڑھی اور الاولیان کی قراءت اپنے لحاظ سے کی جو کہ خلیفہ دوم عمر فاروق کی قراءت سے مختلف تھی، حضرت عمر نے اس کو سن کر کہا کہ تم نے جھوٹ کہا (کذبت) حضرت کعب نے جواب میں کہا کہ تم خود نہ زیادہ بڑے جھوٹے ہو (وانت اکذب ایک شخص نے اس کو سن کر حضرت کعب سے کہا کہ تم امیر المؤمنین کو جھوٹا کہہ رہے ہو۔ انھوں نے کہا کہ میں تم سے زیادہ امیر المؤمنین کے حق کی تعظیم کرتا ہوں۔ لیکن میں نے ان کو اللہ کی کتاب کی تصدیق کے معاملہ میں جھٹلایا ہے، میں نے اللہ کی کتاب کی تکذیب کے معاملہ میں امیر المؤمنین کی تصدیق نہیں کی۔ حضرت عمر فاروق نے کہا کہ انھوں نے ٹھیک کہا (حياة الصحابہ ۴/ ۴۷۷ - ۷۵) یہ گفتگو دو بڑے صحابی کے درمیان ہوئی، معترض صحابی نے ایسا نہیں کیا کہ وہ مختلف قراءت سن کر یہ کہتے کہ یا شیخ یا فضیلة الاستاذ، اسمع لي، لعلك خطأت في القراة۔ بلکہ اپنی اندرونی کیفیت کے مطابق، بے تکلف ان کی زبان سے نکلا کہ کذبت (تم نے جھوٹ کہا) اس واقعہ سے ایک اہم اصول اخذ ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ اظہار رائے کی آزادی کسی شرط کے بغیر ہونی چاہیے۔ شرط عائد کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ لوگوں کے دل میں کچھ ہو اور الفاظ کے ذریعہ اس کا اظہار وہ کچھ اور انداز میں کریں۔ یہ طرز کلام دھیرے دھیرے لوگوں کے اندر ظاہر داری پیدا کرے گا، اور ظاہر داری آخر کار ریا کاری کی صورت اختیار کرلے گی۔ ایک بات جس کو آدمی حق سمجھے، فطری طور پر وہ اس کو بے کم و کاست ظاہر کرنا چاہتا ہے۔ اگر اس کے اوپر مصنوعی پابندی لگائی جائے تو وہ شدید تر نقصان کا باعث بن جائے گی۔ وہ لوگوں کے اندر دہرا شخصیت کی تشکیل کرے گی۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1996 All issues

Printed page