Al-Risala · August 1996 · page 23

ظاہر داری نہیں

الرسالہ، اگست ۱۹۹۶، صفحہ ۲۳

سوال و جواب

حضرت علی بن ابی طالب کی خلافت کے زمانہ میں مسلمانوں کا ایک طبقہ آپ کا باغی ہو گیا۔ اس نے زبردست خلفشار برپا کیا۔ دو لڑائیاں ہوئیں جن میں تقریباً چالیس ہزار مسلمان مارے گئے۔ حتیٰ کہ خود حضرت علی کو شہید کر دیا گیا۔ اس خلفشار کے زمانہ میں آپ کے مخالف گروہ کا ایک آدمی آپ سے ملا۔ اس نے آپ سے کچھ ناقدانہ سوالات کیے۔ اس نے کہا کہ ایسا کیوں ہے کہ آپ کی خلافت کے زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان اتنا اختلاف و انتشار پیدا ہو گیا۔ حالاں کہ ابو بکر و عمر خلیفہ تھے تو ان کے زمانہ میں اس طرح کے اختلافات بر پا نہیں ہوئے۔ حضرت علی نے جواب دیا : لَانَّ ابا بكر وعمر كانا واليين على مثلى اس لیے کہ ابو بکر و عمر میرے جیسے لوگوں کے اوپر و انا اليوم والى على مثلك ۔

(مقدمہ ابن خلدون ، صفحہ ۲۱)

حکم تھے اور میں آج تمہارے جیسے آدمی کے اوپر حکم ہوں ۔

اس اعتراض و جواب سے ایک اہم حقیقت واضح ہو کر سامنے آگئی۔ وہ یہ کہ صحیح اسلامی حکومت کے قائم ہونے کی سب سے اہم شرط کیا ہے۔ وہ شرط یہ ہے کہ سماج کے اندر واضح طور پر اس کے موافق حالات موجود ہوں۔ حضرت علی کے جواب کے الفاظ میں یہ کہنا درست ہو گا کہ صالح سیاسی نظام کے قیام کی شرط یہ ہے کہ ایک طرف صدر ریاست کی کرسی پر ابو بکر و عمر جیسا ایک فرد بیٹھا ہوا ہو، اور دوسری طرف معاشرہ پر اصحاب رسول جیسے لوگوں کا غلبہ ہو۔ خلافت مثل عمر کے ہاتھ میں ہو اور معاشرہ امثال علی پر مشتمل ہو۔

اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام کے دور اول میں کس طرح یہ ماحول تھا کہ ایک عام آدمی وقت کے خلیفہ سے براہ راست ناقدانہ سوال کر سکتا تھا اور خلیفہ معتدل انداز میں اس کا جواب دیتا تھا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب معاشرہ میں سوال و جواب کا کھلا ماحول ہو تو کس طرح الجھے ہوئے ذہنوں کی صفائی ہوتی ہے۔ کس طرح بڑے بڑے اشکالات کا حل خود متعلق شخصیتوں کے ذریعہ منقع ہو کر سامنے آجاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1996 All issues

Printed page