اختلاف کے باوجود
الرسالہ، اگست ۱۹۹۶، صفحہ ۲۵
اختلاف کے باوجود
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تیسرے خلیفہ راشد تھے ۔ آخر عمر میں بعض جھوٹی خبروں کی بنا پر مصر کے ایک ہزار سے زیادہ آدمی مدینہ آئے۔ انھوں نے مدینہ پہنچ کر کافی شور و غل کیا اور آخر کار حضرت عثمان کے مکان کو گھیر لیا۔ اگرچہ حضرت عثمان کے خلاف ان کا الزام سراسر بے بنیاد تھا ، مگر یہ سلمان آپ سے اتنا برہم ہوئے کہ آپ کا گھر سے نکلنا اور گھر میں پانی جانا بند کر دیا۔ یہاں تک کہ ۱۸ ذی الحجہ ۳۵ ھ کو حملہ کر کے آپ کو شہید کر دیا۔ بوقتِ وفات آپ کی عمر ۸۲ سال تھی۔ حضرت عثمان کا محاصرہ تقریباً ۴۰ دن تک جاری رہا تھا۔ بلوائیوں نے جب حضرت عثمان کو گھیر لیا اور مکان سے نکلنے پر پابندی لگا دی تو آپ کے لیے مسجد جانا ممکن نہ رہا۔ خلیفہ کی حیثیت سے نمازوں کی امامت آپ ہی فرماتے تھے ۔ جب آپ کا مسجد جانا بند ہو گیا تو بلوائیوں ، کا سردار غافقی بن حرب کی امام بن گیا۔ اس نے مدینہ کی مسجد میں نمازوں کی امامت شروع کر دی۔
یہ مدینہ کے مسلمانوں کے لیے بڑی سخت آزمائش کی بات تھی۔ ایک طرف وہ اپنے لیے ضروری سمجھتے تھے کہ مسجد میں جاکر جماعت کے ساتھ نماز ادا کریں، دوسری طرف وہ دیکھ رہے تھے کہ ایک شخص جو کھلا ہوا مفسد اور غلط کا رہے، وہی مسجد کا امام بنا ہوا ہے ۔ اس نازک حالت میں ایک شخص حضرت عثمان سے ملا اور ان سے پوچھا کہ ایسی حالت میں ہم کیا کریں ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انھیں یہ ہدایت فرمائی کہ تم لوگ اس کے پیچھے نماز ادا کرو ۔ آپ نے فرمایا :
فَإِذَا أَحْسَنَ النَّاسُ فَأَحْسِنُوا مَعَهُمْ وَإِذَا جب وہ لوگ کوئی نیک کام کریں تو اس میں ان اِسَاؤُا فَاجْتَنِبُوا اِسَاءتهم۔
(فتح الباری بشرح صحیح البخاری (۲۲۱/۲ کا ساتھ دو اور جب وہ لوگ کوئی برا کام کریں تو ان کی برائی سے دور رہو۔
خلیفہ راشد کے اس واقعہ میں عظیم الشان نمونہ ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص سے ہمیں خواہ کتنی ہی زیادہ شکایت ہو ، اس کے بارے میں اظہارِ رائے کرتے ہوئے ہمیں ہمیشہ انصاف پر قائم رہنا چاہیے ۔ ہمیں اپنے اختلاف کو حد کے اندر رکھنا چاہیے نہ یہ کہ اختلاف پیدا ہونے کے بعد ہم حد کے باہر نکل جائیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1996 All issues