Al-Risala · August 1996 · page 26

صوف منہ نتائج

الرسالہ، اگست ۱۹۹۶، صفحہ ۲۶

صوف منہ نتائج

سعید بن ابی عروبہ تابعی نے عالم کی تعریف کرتے ہوئے کہا جو آدمی اختلاف کو نہ سنے اس کو عالم نہ شمار کرو : من لم يسمع الاختلاف فلا نقد و معالماً (جامع بیان العلم و فضلہ، لابن عبدالبر، صفحہ ۴) اختلاف سے مراد جھوٹی تنقید یا الزام تراشی والی باتیں نہیں ہیں۔ اختلاف سے مراد علمی اختلاف ہے۔ اور سنجیدہ علمی اختلاف اتنی قیمتی چیز ہے کہ جو حقیقی عالم ہوگا وہ اس کا حریص ہوگا نہ کہ وہ اس کو برا مانے اور اس کو بند کرنے کی کوشش کرے۔

علم اتنا زیادہ وسیع خزانہ ہے کہ وہ کسی ایک دماغ میں سما نہیں سکتا۔ اس لیے ہر سچا عالم حرص کی حد تک اس کا طالب رہتا ہے کہ کوئی ملے جو اس کی رائے سے اختلاف کرے ۔ تاکہ علم کے نئے گوشے کھلیں، تاکہ دوسروں کے علم سے وہ اپنے علم میں اضافہ کرے ۔

تاہم اختلاف اور مذاکرہ کا یہی فائدہ نہیں ہے کہ اس کے ذریعہ سے وہ مزید معلومات سامنے آتی ہیں جو دوسروں کے پاس ہیں۔ بلکہ یہ بھی ہوتا ہے کہ خود عالم کا اپنا ذہن زیادہ منقح ہوتا ہے۔ اختلاف و مذاکرہ کے دوران وہ خود اپنے خیالات کو زیادہ واضح اور جامع صورت میں مرتب کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ ایک سچی علمی گفتگو، خواہ وہ کتنا ہی زیادہ اختلافی ہو، ایک صاحب علم اور حقیقت پسند شخص کے لیے لذیذ ترین تجربہ ہے۔ ایسا لمحہ گویا علم کے سمندر میں مشترکہ غوطہ زنی کے ہم معنی ہے ۔ جو بے حد پر کیف بھی ہے اور بے حد مفید بھی۔

موجودہ زمانہ میں چونکہ جھوٹے ناقدین بہت بڑھ گئے ہیں اس لیے بہت سے لوگ سچی تنقید کو بھی برا سمجھنے لگے ہیں۔ حالاں کہ دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ جھوٹی تنقید اگر بد بو ہے تو سچی تنقید خوشبو ، جھوٹی تنقید اگر کانٹا ہے تو سچی تنقید ایک حسین پھول۔ جھوٹی تنقید ایک قسم کی تخریب کاری ہے۔ اس کے مقابلہ میں سچی تنقید ایک تعمیری عمل ہے وہ اس قابل ہے کہ اس کو ہر حال میں جاری رکھا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1996 All issues

Printed page