Al-Risala · August 1996 · page 29

حق کا اعتراف

الرسالہ، اگست ۱۹۹۶، صفحہ ۲۹

اور فئی کا حکم بیان کرتے ہوئے والذین جاء امن بعدھم اور جوان کے بعد آئے کا لفظ ہے۔ اس سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ فتوحات کے ذریعہ جو اموال ملیں وہ صرف حال کے لوگوں کے لئے نہیں ہیں بلکہ اس میں آنے والی نسلوں کا بھی حق ہے۔ اگر ان مفتوحہ زمینوں کویں موجودہ فاتحین کے درمیان بانٹ دوں تو ہماری آئندہ نسلوں کو اس میں حصہ نہیں مل سکے گا۔ اور یہ قرآن کے منشاء کے خلاف ہوگا۔ حضرت عمر کے اس استدلال کو تمام لوگوں نے مان لیا اور ایک زبان ہو کر کہا کہ آپ ہی کی رائے درست ہے۔

اس کے بعد یہ اصول قائم ہو گیا کہ فتوحات کے ذریعہ جو زمینیں اسلامی مملکت میں داخل ہوں وہ حکومت اسلامی کی ملکیت قرار پائیں نہ کہ فوج کے افراد میں تقسیم ہو کر ان کی انفرادی ملکیت میں چلی جائیں۔

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سورہ حشر کی مذکورہ آیت نے لوگوں کے ہونٹ سی دئے اور اب ان کے لئے کچھ بولنے کا موقع باقی نہ رہا۔ اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں میں قبولیت حق کا مادہ تھا۔ ان کی بحث نہ سمجھنے کی وجہ سے تھی نہ کہ محض سرکشی کی بنا پر۔ اس لئے جب قرآن کی آیت نے حقیقت کھول دی تو اس کے بعد ان کے لئے سمجھنا کچھ دشوار نہ رہا۔

اس دنیا میں بولنے کی گنجائش اتنی زیادہ ہے کہ آدمی ہر دلیل کے جواب میں اس کے خلاف بولنے کے لئے کچھ نہ کچھ الفاظ پا لیتا ہے۔ اب جو لوگ غیر سنجیدہ ہیں وہ اسی طرح ہر دلیل کے جواب میں الفاظ کا ایک مجموعہ پیش کرکے اسے رد کر دیتے ہیں۔ مگر جو لوگ سنجیدہ ہوں اور اپنے آپ کو اللہ کے سامنے جواب دہ سمجھتے ہوں۔ وہ نہ سمجھنے کی وجہ سے بعض اوقات کسی بات کے مخالف بن جاتے ہیں۔ مگر جب اس بات کو زیادہ واضح دلائل سے ثابت کر دیا جائے تو وہ فوراً مان لیتے ہیں۔ اس کے بعد انھیں اصل بات کو ماننے میں کوئی الجھن پیش نہیں آتی۔

مذکورہ واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اظہار خیال کی آزادی کے آداب و قواعد کیا ہیں۔ وہ یہ ہیں کہ ایک عام آدمی کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ خلیفہ وقت سے اختلاف کرے۔ مگر اسی کے ساتھ آدمی کو ایسا ہونا چاہیے کہ جب دلیل سامنے آئے تو وہ اس کو پہچان سکے اور اس کے بعد اپنے اختلافات کو ختم کر دے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1996 All issues

Printed page