حق کا اعتراف
الرسالہ، اگست ۱۹۹۶، صفحہ ۲۸
حق کا اعتراف
خلیفہ ثانی عمر فاروق کے زمانہ میں ۱۶ھ میں عراق فتح ہوا۔ اس کے بعد یہ سوال تھا کہ دجلہ و فرات کے علاقہ کی زرخیز زمینیں جو مسلمانوں کے قبضہ میں آئی ہیں، ان کا انتظام کس طرح کیا جائے ۔ سابق رواج کے مطابق، فوجی سرداروں کی رائے یہ تھی کہ اس مفتوحہ زمین کا بڑا حصہ فوجیوں کے درمیان تقسیم کر دیا جائے۔ حضرت عمر کی رائے اس کے خلاف تھی۔ ان کی رائے یہ تھی کہ زمین کو سرکاری بیت المال کے زیر تصرف رہنا چاہئے تاکہ آئندہ نسلوں تک اس کا فائدہ تمام لوگوں کو مل سکے۔
اس مسئلہ پر سخت اختلاف ہوا اور کئی دن تک بحث جاری رہی۔ خاص طور پر خالد بن الولید، عبد الرحمن بن عوف اور بلال بن رباح نے اتنی زیادہ حجت کی کہ حضرت عمر فاروق کی زبان سے یہ الفاظ نکل آئے کہ : اللہم اکفنی بلالاً ۔ یعنی اے اللہ، تو مجھ کو بلال سے نجات دے۔ اس کے بعد اس مسئلہ کو طے کرنے کے لئے ایک مشاورتی بورڈ بنایا گیا جس میں حضرت عثمان، حضرت علی اور حضرت طلحہ جیسے لوگ تھے۔ اس کے باوجود اتفاق رائے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکا۔
کئی دن کی بحث کے بعد آخر کار حضرت عمر کو قرآن کی یہ آیت یاد آئی کہ (غنیمت میں) ان مفلس مہاجروں کے لئے حصہ ہے جو اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے نکالے گئے ہیں۔ وہ اللہ کا فضل اور رضامندی چاہتے ہیں۔ اور وہ اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں، یہی لوگ سچے ہیں۔ اور جو لوگ پہلے سے دار الاسلام میں قرار پکڑے ہوئے ہیں اور ایمان استوار کئے ہوئے ہیں، جو ان کے کے پاس ہجرت کر کے آتا ہے اس سے وہ محبت کرتے ہیں، اور وہ اپنے دلوں میں اس سے تنگی نہیں پاتے جو مہاجرین کو دیا جاتا ہے۔ اور وہ ان کو اپنے اوپر مقدم رکھتے ہیں، اگرچہ ان کے اوپر فاقہ ہو۔ اور جو شخص اپنے جی کے لالچ سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ اور جو اُن کے بعد آئے (و الذین جاء من بعدهم، الحشر - ۸)
حضرت عمر فاروق نے لوگوں کو قرآن کی یہ آیت سنائی اور کہا کہ اس آیت میں غنیمت
‹ Previous page Next page › Contents of August 1996 All issues