اضافۂ ایمان
الرسالہ، اگست ۱۹۹۶، صفحہ ۳۱
اضافۂ ایمان
ایمان کوئی جامد چیز نہیں اور نہ کسی مجموعۂ الفاظ کو زبان سے دہرا لینے کا نام ایمان ہے۔ لفظی مجموعہ ایمان کی ظاہری علامت ہے نہ کہ خود لفظی مجموعہ ہی اصل ایمان ہے۔ تمام اعلیٰ حقیقتوں کی اہمیت ان کے معنوی پہلو کے اعتبار سے ہوتی ہے، پھر ایمان جیسی اعلیٰ ترین حقیقت کی اہمیت اس کے الفاظ تک کیوں کر محدود ہو جائے گی۔
ایمان حقیقتِ اعلیٰ کی دریافت ہے۔ ایمان علوم کے سرے کو پکڑنا ہے۔ ایمان معانی کے سمندر میں داخل ہونا ہے۔ ایمان اپنی محدودیت کو لامحدود کے درجہ تک لے جانا ہے۔ ایمان زمینی پستیوں سے اٹھ کر آسمانی بلندیوں تک پہنچ جانا ہے۔ ایمان یہ ہے کہ آدمی ایک ایسے روحانی سفر کا مسافر بن جائے جہاں ہر آن نیا تجربہ ہو۔ وہ ایک ایسا شعوری ارتقاء ہے جس کا سلسلہ کبھی اور کہیں ختم نہیں ہوتا۔ چنانچہ قرآن میں ایمان کو ایک ارتقا پذیر حقیقت بتایا گیا ہے، ایک ایسا قبلی سرمایہ جس میں ہمیشہ اضافہ ہوتا رہے (افتح ہی) ایمان ایک اعلیٰ ترین علم ہے جو ہمیشہ اللہ کی توفیق سے بڑھتا رہتا ہے۔
ایمان میں یہ زیادتی کس طرح ہوتی ہے۔ اس کا پہلا ذریعہ تفکر وتدبر ہے۔ انسان خدا کی باتوں کو پڑھتا ہے۔ وہ خدا کی چیزوں میں غور کرتا ہے (آل عمران (۱۹۱) اس طرح حق صداقت کی نئی نئی تجلیاں اس پر منکشف ہوتی ہیں۔ پھر وہ اہلِ ذوق کے ساتھ ان پر مذاکرہ کرتا ہے، جیسا کہ عمر فاروق نے کہا : تعال نؤمن ساعة، هلم فلنذكر ربنا۔ اس طرح فکری تبادل کے ذریعہ ہر ایک اپنے علم کو بڑھاتا ہے۔ ہر ایک اپنی معرفت میں اضافہ کرتا ہے۔
فکری ارتقاء کے اس عمل کو جاری رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ مسلم معاشرہ میں آزادانہ تبادلۂ خیال کا ماحول ہو۔ لوگ کھلے طور پر اپنی بات کو کہیں اور دوسرے کے تبصرہ کو سنیں۔ کہنے والے کو آزادانہ طور پر اپنے دل کی بات کہنے کا موقع ہو اور سننے والوں میں یہ حوصلہ ہو کہ وہ کھلے ذہن کے ساتھ اس کو سنیں۔ اس طرح تبادلۂ افکار کے ذریعہ شعور ایمان کا ارتقائی سفر مسلسل جاری رہے۔ اضافہ ایمان خلا میں نہیں ہوتا بلکہ افکار کے طوفانوں کے درمیان ہوتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1996 All issues