اضافۂ ایمان
الرسالہ، اگست ۱۹۹۶، صفحہ ۳۲
قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ تم یہ دعا کرتے رہو کہ اے میرے رب ، میرا علم زیادہ کر دے : " وقل رب زدنی علماً (طہ، ۱۱۴) اس کی تفسیر یہ کی گئی ہے کہ رب زدنی علماً کا مطلب ہے رب زدنی فہماً" ( القرطبی ، ۱۱/ ۲۵۰) یعنی میرے فہم دین میں اضافہ کر دے ۔
اس سے معلوم ہوا کہ فہم دین یا علم دین ایک ایسی چیز ہے جس میں برابر اضافہ ہوتا رہتا ہے ۔ معلومات کے اعتبار سے بھی اور بصیرت و معرفت کے اعتبار سے بھی ۔
یہ اضافہ بلاشبہ اللہ کی توفیق سے ہوتا ہے۔ مگر اس عالم امتحان کے لیے اللہ کا قانون یہ ہے کہ یہاں ہر ملنے والی چیز، حالات و اسباب کے درمیان ملتی ہے۔ اسی طرح دین کا علم وفہم بھی آدمی کو حالات و اسباب کے درمیان حاصل ہوتا ہے ۔
انھیں حالات و اسباب میں سے ایک چیز یہ ہے کہ آدمی ہمیشہ اپنے ذہن کی کھڑکیوں کو کھلا رکھے ۔ وہ اضافہ علم کے لیے مسلسل حریص بنا رہے۔ مطالعہ، مشاہدہ اور مذاکرہ جیسی چیزوں میں برابر مشغول رہے ۔ دوسروں سے سیکھنے کے لیے وہ ہر وقت تیار رہتا ہو۔ جب بھی کسی صاحب علم یا صاحب ذوق سے اس کا ٹکراؤ ہو تو انا کے خول سے باہر نکل کر وہ اس کی باتوں کو سنے اور ذاتی وقار کے احساس سے بلند ہو کر اس سے استفادہ کرے ۔
علم میں اضافہ کا براہ راست تعلق طلب میں اضافہ سے ہے۔ بڑھی ہوئی طلب والا ایک آدمی ہی اپنے علم وفہم میں اضافہ کرتا ہے ۔ اور طلب کی پہچان یہ ہے کہ آدمی کی کیفیت یہ ہو جائے کہ علم جہاں بھی ملے وہ اس کو لے لے، خواہ وہ اس کے موافق ہو یا اس کے خلاف ۔ ہر علم تبادل کے ذریعہ بڑھتا ہے، اسی طرح ربانی علم بھی اس دنیا میں تبادلہ کے ذریعہ مسلسل بڑھتا رہتا ہے ، مذاکرہ ، تبادلہ افکار، ایک دوسرے کے بارہ میں اظہارِ خیال ، ایک دوسرے کو اپنی روحانی دریافتیں بتانا اور ان پر اہل ذوق کا تبصرہ سننا، یہ سب وہ ذریعے ہیں جو فہم دین میں اضافہ کرتے ہیں ، اور وہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ ماحول باحمول میں آزادانہ طور پر افکار و تجربات کا لین دین جاری رہے ۔
علم میں اضافہ کی دعا اپنی حقیقت کے اعتبار سے خود اپنی داخلی تڑپ کا ایک دعائیہ اظہار ہے نہ کہ متعین قسم کے خارجی الفاظ کی کوئی لسانی تکرار ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1996 All issues