Al-Risala · August 1996 · page 38

مشترک ذمہ داری

الرسالہ، اگست ۱۹۹۶، صفحہ ۳۸

بھلائی کا دروازہ کھولنا اور برائی کا دروازہ بند کرنا، یہ کوئی ایک طرفہ عمل نہیں ہے یعنی ایسا نہیں ہے کہ کسی فرد یا گروہ کو خدائی لائسنس دے دیا گیا ہے کہ وہ دوسرے لوگوں کا احتساب کریں اور دوسروں کو ان کا احتساب کرنے کا حق نہ ہو۔ بلکہ یہ دو طرفہ عمل ہے، اور معاشرہ کے سبھی لوگوں کی طرف سے سبھی لوگوں کے اوپر جاری رہتا ہے۔

اسی لیے قرآن وحدیث میں اس کے لیے وہ صیغے استعمال کیے گئے ہیں جن میں دو طرفہ مشارکت کا مفہوم ہے۔ مثلاً فرمایا کہ وتواصوابالحق (العصر) یعنی ایک دوسرے کو باہم حق کی نصیحت کرو۔ اسی طرح فرمایا کہ کا نوالا یتنا هون عن منكر فعلوه (المائدہ، ۷۹) یعنی وہ بگاڑ کے وقت ایک دوسرے کو برے کام سے روکتے نہیں تھے۔ اسی طرح حدیث میں ہے کہ بل آمروا بالمعروف و تناهوا عن المنکر (سنن ابی داؤد) یعنی تم آپس میں ایک دوسرے کو معروف کی تلقین کرو اور آپس میں ایک دوسرے کو برائی سے روکو۔

خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق کے بہت سے واقعات اس سلسلہ میں سیرت کی کتابوں میں آئے ہیں۔ مثلاً متعدد بار ایسا ہوا کہ انھوں نے ایک حکم جاری کیا۔ ایک شخص نے شرعی دلیل کے ساتھ بتایا کہ آپ کا حکم کا درست نہیں۔ اس کے بعد فوراً انھوں نے اپنا حکم واپس لے لیا اور کہا کہ لو لا فلان تهلك عمر (اگر فلان شخص نہ ہوتا تو عمر ہلاک ہو جاتا) ایک مرتبہ حضرت عمر رات کے گشت پر نکلے۔ دیکھا کہ ایک آدمی شہر کے باہر کھڑا ہوا ایک عورت سے بات کر رہا ہے۔ انھوں نے اس کو کوڑا مار دیا۔ اس نے کہا کہ آپ نے کیوں مجھے کوڑا مارا۔ حضرت عمر نے کہا کہ تم رات کے وقت ایک اجنبی عورت سے بات کر رہے ہو۔ اس نے بتایا کہ یہ اجنبی عورت نہیں ہے، یہ میری بیوی ہے۔ ہم دونوں باہر سے اگر ابھی یہاں پہنچے ہیں۔ ہم مشورہ کر رہے تھے کہ اس وقت شہر میں کس کے گھر جائیں حضرت عمر نے فوراً کوڑا مذکورہ آدمی کے ہاتھ میں دے دیا اور کہا کہ اب تم مجھے کوڑا مارو، کیوں کہ اس معاملہ میں اصل غلطی میری تھی۔

یہی ہمیشہ تمام صالحین کا معاملہ رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو آدمی اپنے خلاف تنقید سننے کے لیے تیار نہ ہو، اس کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ دوسروں کے اوپر تنقید کرے۔ اسلام میں اختلاف اور محاسبہ کا حق ایک مشترک حق ہے نہ کہ کسی ایک کا مخصوص حق۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1996 All issues

Printed page