Al-Risala · August 1996 · page 39

آزادی کی حد

الرسالہ، اگست ۱۹۹۶، صفحہ ۳۹

آزادی کی حد

فکری آزادی بلاشبہ کسی انسان کے لیے ایک عظیم نعمت ہے۔ مگر اس دنیا میں ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے، اسی طرح آزادی کی بھی حد ہے۔ آزادی اپنی حد کے اندر نعمت ہی نعمت ہے۔ مگر اپنی حد کے باہر وہ فساد ہی فساد ہے۔

فکری آزادی کی حد یہ ہے کہ وہ معلوم اور ثابت شدہ حقیقتوں کے دائرہ میں جاری ہو، مفروضات اور قیاسات کی بنیاد پر نہ کوئی رائے قائم کی جائے اور نہ اس قسم کی بے اصل باتوں کو لے کر کوئی نظریاتی عمارت کھڑی کی جائے۔ قرآن میں اہل ایمان کو حکم دیا گیا ہے کہ ــــــــــ اور تم ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کی تم کو خبر نہیں۔ بے شک کان اور آنکھ اور دل سب کی بابت آدمی سے پوچھ ہو گی (الاسراء: ۳۶) اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کو غیر ذمہ دارانہ کلام سے بچنا چاہیے۔ اس کو وہی بات بولنا چاہیے جس کی بابت سننے اور دیکھنے اور سمجھنے کی طاقتوں کو بھر پور طور پر استعمال کر کے وہ اس کی تحقیق کر چکا ہو۔ اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو وہ اس بات کا مجرم قرار دیا جائے گا کہ خدا کی دی ہوئی ضروری صلاحیتوں کو استعمال کیے بغیر بالکل بے بنیاد طور پر اس نے اظہار خیال کرنا شروع کر دیا۔

آدمی اگر کسی شخص کے خلاف یا کسی مسئلہ کے بارہ میں کلام کرنا چاہتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس کی پوری تحقیق کرے۔ وہ اظہار خیال سے پہلے پوری طرح اس کی جانچ کرے۔ اور پھر وہ صرف اس وقت بولے جب کہ اس کے پاس بولنے کے لیے کوئی محکم بات ہو، بصورت دیگر اس پر فرض ہے کہ وہ خاموشی کا طریقہ اختیار کرے۔

بولنا اس آدمی کے لیے جائز ہے جو بولنے سے پہلے اس کی تیاری کرے۔ وہ اپنے آپ کو بولنے کا اہل بنائے۔ سنی سنائی باتوں پر رائے دینا اتنا برا ہے کہ حدیث میں اس کو جھوٹ کہا گیا ہے۔ اسی طرح نیت سے تعلق رکھنے والی باتوں کو زیر بحث لانا سخت گناہ ہے۔ کیوں کہ اس کا علم خدا کے سوا کسی کو نہیں۔ آزادانہ اظہار رائے جس طرح ایک حق ہے اسی طرح وہ ایک ذمہ داری بھی ہے ۔ اور وہ یہ کہ کامل واقفیت کے بغیر آدمی کبھی اظہار رائے نہ کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1996 All issues

Printed page