Al-Risala · August 1996 · page 45

اختلافات کی توجیہہ

الرسالہ، اگست ۱۹۹۶، صفحہ ۴۵

اس کو محکمات میں شمار کیا (القرطبی ۲۰۲/۱۰)

اب غور کیجئے تو یہی دوسری رائے قرآن کی روح کے زیادہ مطابق نظر آئے گی۔ اصل یہ ہے کہ اعراض ایک مستقل حکم ہے اور اس کا تعلق مومن کی عام اخلاقیات سے ہے۔ دعوت دیتے ہوئے، لوگوں سے معاملہ کرتے ہوئے، یا سفر کرتے ہوئے بار بار ایسا ہوتا ہے کہ دوسروں کی طرف سے ناخوش گوار تجربات پیش آتے ہیں۔ ایسے تمام مواقع پر اعراض کا طریقہ اختیار کرنا ایک مستقل حکم ہے۔ مومن جاہلوں سے اعراض کر کے خلقِ عظیم کا ثبوت دیتا ہے جو دنیا و آخرت کی تمام سعادتوں کے لیے اساس کی حیثیت رکھتی ہے۔

جہاں تک جہاد (بمعنی قتال) کا تعلق ہے، وہ دفاع کی مصلحت کے تحت ہے۔ جب کسی گروہ کی طرف سے عملاً جارحیت کا فعل کیا جائے تو اس وقت اس کی جارحیت کو فرد کرنے کے لیے اس سے مقابلہ کیا جائے گا۔ قتال ایک وقتی حکم ہے اور اعراض ایک مستقل حکم۔ معلوم ہوا کہ ”الدین“ میں کوئی اختلاف نہیں۔ جو کچھ اختلاف ہے وہ صرف شریعت میں ہے۔ یہ اختلاف دو قسم کا ہے۔ ایک، وہ جو عبادات سے متعلق ہے، اور دوسرا، وہ جو معاملات سے تعلق رکھتا ہے۔

عبادات میں جو اختلاف ہے وہ تمام تر اس کی ظاہری جزئیات میں ہے۔ اور اس نوعیت کا اختلاف یا فرق بالکل فطری ہے۔ کیوں کہ عبادت ایک ایسا عمل ہے جو ہمیشہ یکساں کیفیت کے ساتھ انجام نہیں دیا جا سکتا۔ کبھی آدمی کے اندر کیفیات زیادہ ہوں گی اور کبھی کم۔ یہ یہی کیفی فرق عبادت کے ظاہری آداب میں فرق پیدا کر دیتا ہے۔ گویا عبادت کے اساسی اجزاء میں وحدت ہے اور عبادت کے ظاہری آداب میں تننوع اور توسع۔ اس معاملہ میں روایات میں جو اختلاف پایا جاتا ہے وہ دراصل اسی تننوع کا ایک ریکارڈ ہے۔

ایک اور اعتبار سے یہی معاملات کی صورت بھی ہے۔ معاملات میں بنیادی احکام اگرچہ نہایت واضح ہیں۔ مگر وہ حالات ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں جن میں کسی حکم کا انطباق مطلوب ہے۔ اس لیے انطباق کے اعتبار سے احکام کی جزئیات و فروع میں اکثر فرق کرنا پڑتا ہے۔ معاملات کے بارہ میں حدیث اور فقہ میں جو اختلاف ہے وہ اسی فرق باعتبار انطباق کی مختلف مثالیں ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1996 All issues

Printed page