اختلافات کی توجیہہ
الرسالہ، اگست ۱۹۹۶، صفحہ ۴۴
مگر بات صرف اتنی ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اختلاف کی ایک عظیم مثبت افادیت بھی ہے۔ اور وہ یہ کہ کسی معاملہ میں جب اختلاف کا امکان ہو، اسی وقت اس میں ذہنی سرگرمیاں جاری ہوتی ہیں اور اس طرح انسانی فکر کا مسلسل ارتقاء ہوتا رہتا ہے۔ اگر اختلاف کی گنجائش نہ ہو تو ذہنی سرگرمیاں بھی جاری نہ ہوں گی، اور پھر انسانی فکر کے ارتقاء کا عمل بھی رک جائے گا، جبر کا آخری نتیجہ ذہنی جمود ہوگا، اور ذہنی جمود اس دنیا میں ذہنی موت کے ہم معنی ہے۔ اس عمل کے دوران لازماً اختلاف واقع ہوگا۔ کوئی عالم ایک رائے پر پہنچے گا، اور کوئی عالم دوسری رائے پر، اور کوئی عالم تیسری رائے پر۔ مگر رایوں کا اختلاف کوئی برائی نہیں۔ اصل قابل لحاظ چیز یہ ہے کہ یہی واحد صورت ہے جس سے کسی گروہ کے اندر فکری سرگرمیاں جاری ہوتی ہیں۔ اور پھر فکری سرگرمیوں کے ذریعہ تخلیقیت (creativity) جنم لیتی ہے اور ذہنی ارتقاء کے راستے کھلتے ہیں۔ اس معاملہ میں ” اختلاف “ کی حیثیت فطری کورس کی ہے ، اور فکری سرگرمیوں کی حیثیت نتیجہ کی، اور اصل قابل لحاظ چیز نتیجہ ہے نہ کہ کورس۔
اس معاملہ کی ایک مثال لیجئے ۔ قرآن میں ایک طرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ : فاعرض عنهم وتوكل على الله (النساء ۸۱) ان سے اعراض کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ دوسری طرف قرآن میں یہ حکم ہے کہ : یا ایها النبي جاهد الكفار و المنافقین (التوبه ۸۳) اے نبی، کافروں اور منافقوں سے جنگ کرو۔
یہ دونوں آیتیں بظاہر ایک دوسرے سے مختلف معلوم ہوتی ہے۔ ایک آیت جن لوگوں سے اعراض کی تعلیم دیتی ہے ، دوسری آیت انھیں لوگوں سے ٹکراؤ کا حکم دے رہی ہے۔ اس فرق واختلاف نے ذہنوں کو جھنجھوڑا اور لوگوں نے اس پر غور کرنا شروع کیا۔ اب ایک خیال یہ قائم کیا گیا کہ قتال کی آیت نے اعراض کی آیت کو منسوخ کر دیا ہے: (فاعرض عنهم) ای لا تعاقبهم - ويقال إن هذا منسوخ بقوله تعالی يا ايها النبي جاهد الكفار والمنافقين) الجامع لاحكام القرآن للقرطبی ۲۹۰/۵ مگر ذہنی عمل یہیں ختم نہیں ہو جاتا۔ چنانچہ اس نے مزید کچھ لوگوں کے ذہن کو متحرک کیا۔ انھوں نے غور کیا تو وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ اعراض کی آیت منسوخ نہیں ہے۔ چنانچہ انھوں نے
‹ Previous page Next page › Contents of August 1996 All issues