الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۳۶۶
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۳۶۶
ایک آیت
قرآن (المائدہ ۴۴) میں ہے کہ اور جو کوئی اس کے موافق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے اتارا ہے تو وہی لوگ کافر ہیں (و من لم يحكم بما انزل الله فاونك هم الكافرون) ان الفاظ سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ما انزل اللہ کے مطابق فیصلہ نہ کرنے سے آدمی کافر ہو جاتا ہے۔ اسی طرح بہت سی حدیثیں ہیں جن میں بعض اعمال پر کفر کی خبر دی گئی ہے۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سباب المسلم فسوق وقتالہ کفر (مسلم کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے جنگ کرنا کفر ہے) البخاری، کتاب الایمان اس طرح کی آیتوں اور حدیثوں کو لے کر کچھ اسلام پسند حضرات ان مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں جو ان کے نزدیک با انزل اللہ پر فیصلہ نہیں کر رہے ہیں۔ اسی نظریہ کے تحت وہ بہت سے مسلم حکمرانوں کو مرتد اور کافر بناتے ہیں اور ان کے قتل کو جائز قرار دے رہے ہیں۔ اس قسم کا نظریہ بدترین گمراہی ہے اور اس نے عالم اسلام میں خارجیت جیسے ایک فتنہ کو دوبارہ شدید تر صورت میں زندہ کر دیا ہے۔ اس کے نتیجہ میں نہ صرف مسلمان مسلمان کو قتل کر رہے ہیں، بلکہ خود اسلام کی تصویر ایک ایسے مذہب کی ہو گئی ہے جو تشدد اور خوں ریزی کی تعلیم دیتا ہو۔ اس قسم کی آیات و احادیث کی صحیح تفسیر وہ ہے جو حبر الامت اور امام التفسیر عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کی۔ انھوں نے کہا کہ اس سے مراد وہ کفر نہیں ہے جس سے آدمی خارج از اسلام قرار پاتا ہے۔ بلکہ اس سے مراد کفر دون کفر ہے۔ یعنی کفر سے کمتر درجہ کا ایک کفر (الترمذی، کتاب الایمان) قرآن و حدیث میں جہاں اس قسم کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں وہ فقہی یا قانونی مفہوم میں نہیں ہیں۔ وہ ایک اسلوب کلام ہے۔ وہ دراصل زجر میں مبالغہ ہے۔ یہ شدت کلام کی ایک مثال ہے۔ اور ناصحانہ کلام میں ہمیشہ اس قسم کا انداز اختیار کیا جاتا ہے، کبھی ایک قسم کے الفاظ میں اور کبھی دوسری قسم کے الفاظ میں۔ یہ قانونی زبان اور ناصحانہ زبان کا فرق ہے نہ کہ فقہی معنوں میں مسلم اور کافر کا فرق۔ نصیحت اور تنبیہہ کبھی سادہ الفاظ میں کی جاتی ہے اور کبھی شدید الفاظ میں۔ مذکورہ مثالیں اسی نوعیت کی شدید انداز کی مثالیں ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1996 All issues