اسلام کی شناخت
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۳۶۷
اسلام کی شناخت
اسلام کی شناخت ملتی نہیں ہے بلکہ ربانی ہے۔ مسلم کی پہچان یہ نہیں ہے کہ اس کا کلچر الگ ہو ۔ مسلم کی حقیقی پہچان یہ ہے کہ اس کی شخصیت عام انسانوں سے مختلف ہو۔ دورِ اول کے عرب میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہچان یہ نہیں تھی کہ آپ کی زبان، آپ کا لباس، آپ کا رہن سہن دوسروں سے مختلف تھا۔ آپ کی پہچان یہ تھی کہ آپ الامین ہیں۔ بہت سے خداؤں کے دیس میں آپ ایک خدا کی عبادت کرنے والے ہیں۔
حدیث میں ہے کہ : خيار كم الذين اذا رُؤُوا ذكرا للہ (ابن ماجه، کتاب الزہد) یعنی تم میں بہتر وہ لوگ ہیں کہ جب انھیں دیکھا جائے تو خدا یاد آئے۔
اسلامی شناخت کا صحیح تصور یہی ہے۔ سچا مومن وہ ہے جس کو دیکھنا اور جس سے ملنا آدمی کے لیے ایک ربانی تجربہ بن جائے۔ جس کا کلام خدا کی عظمت کا اعلان بنا ہوا ہو۔ جس کے سلوک میں جنتی انسان کی خوشبو بسی ہوئی ہو۔ جس کا بولنا اس کے سننے والوں کو چپ کر دیتا ہو۔ اور جس کی خاموشی میں لوگوں کو تقریر کی کیفیت محسوس ہونے لگے۔
مومن وہ انسان ہے جس کو خدا کی معرفت حاصل ہو گئی ہو۔ جس کا سینہ خدا کی یاد سے پھٹ پڑا ہو۔ جو دیکھنے سے پہلے خدا کو دیکھنے لگا ہو۔ ایسا انسان اپنے پورے وجود کے ساتھ خدا کی ایک نشانی بن جاتا ہے۔ اس کی پوری شخصیت ایک آسمانی نور میں نہائی ہوئی ہوتی ہے۔ ایسا آدمی اپنے لباس سے نہیں پہچانا جاتا۔ وہ اپنی اس اندرونی شخصیت سے پہچانا جاتا ہے جو اتنی نمایاں ہوتی ہے کہ وہ اس کے لباس کو بھی ڈھک لیتی ہے۔
یہی ربانی شخصیت مومن کی اصل پہچان ہے۔ اس کو دیکھنا کسی گروہ ہی امتیاز کو دیکھنا نہیں ہوتا۔ اس کو دیکھنا ایک ایسی ہستی کو دیکھنا بن جاتا ہے جو خدا کی یاد دلا دے، جو دیکھنے والے کے اوپر خدا کی حقیقتِ اعلیٰ کو منکشف کر دے۔
اسلامی شناخت یہ ہے کہ آدمی کا طرزِ فکر دوسروں سے مختلف ہو جائے۔ اس کے قول میں ایک نیا آہنگ پیدا ہوجائے۔ اس کا اخلاق دوسروں سے الگ دکھائی دینے لگے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1996 All issues