Al-Risala · September 1996 · page 23

دو ہجرتیں

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۲۳

ہجرت بجائے خود ایک اہم اسلامی فریضہ ہے۔ مگر ہجرت کی دو صورتیں ہیں۔ ایک مکانی ہجرت اور دوسرے تدبیری ہجرت۔ مکہ سے مدینہ جانا یہ مکانی ہجرت تھی اور حدیبیہ کا معاہدہ تدبیری ہجرت تھی۔ کیوں کہ اس معاہدہ میں یہ طے کیا گیا تھا کہ اب تک دونوں فریقوں کے درمیان جو جنگ جاری تھی اس کو بند کر دیا جائے ۔ دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے پر حملہ نہ کرے اس طرح حدیبیہ نے میدان عمل کو بدل دیا۔

گویا کہ صلح حدیبیہ تشدد آنہ عمل (violent activism) سے غیر تشدد آنہ عمل (non-violent activism) کی طرف ہجرت تھی۔ اس صلح کے ذریعہ فریق ثانی کو عدم جارحیت کا پابند کر دیا گیا اور اس طرح اہل اسلام کے لئے پر امن دعوت یا غیر تشدد آنہ عمل کار استہ کھل گیا۔

عجیب بات ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد اور دوسرے علما کی سمجھ میں یہ دوسری ہجرت نہ آسکی۔ البتہ مہاتما گاندھی نے اس راز کو پایا جنھوں نے اسلام کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ چنانچہ ۱۹۳۱ء میں جب کہ علماء مسلمانوں کو ہجرت مکانی کی دعوت دے رہے تھے، عین اس وقت مہاتما گاندھی نے اہل وطن کو ہجرت تدبیری کا پیغام دیا۔ انھوں نے کہا کہ اب تک ہم تشدد کے ذریعہ ہندوستان کی آزادی کی جد و جہد چلا رہے تھے۔ یہ طریقہ کامیاب ثابت نہیں ہوا۔ اب ہم کو تشدد کا طریقہ چھوڑ کر عدم تشدد کے طریقہ پر اپنی تحریک چلانا چاہئے۔

عدم تشدد کے ہتھیار سے مراد تھا دلیل کا ہتھیار ۔ یہ دوسرا ہتھیار ہندوستانیوں کے حق میں نہایت مؤثر ثابت ہوا۔ تشدد کے طریقہ میں انگریزی حکومت زیادہ طاقت ور ثابت ہو رہی تھی۔ اور ہندوستانی لوگ اس کے مقابلہ میں کمزور فریق بنے ہوئے تھے۔ مگر جب عدم تشدد کا طریقہ اختیار کیا گیا تو اچانک ہندوستانیوں کا پلڑا بھاری ہو گیا۔ کیوں کہ اب مقابلہ ہتھیار کے میدان کے بجائے نظریات کے میدان میں منتقل ہو گیا۔

مشینی انقلاب نے انگریزوں کو زیادہ بہتر ہتھیار دئے تھے۔ مگر دلیل اور نظریہ کے میدان میں معاملہ اس کے برعکس تھا۔ اس دوسرے میدان میں انگریزوں کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہ تھا کہ وہ باہر کے دیش سے آکر کیوں ہندوستان میں حکومت کریں۔ جب کہ

‹ Previous page Next page › Contents of September 1996 All issues

Printed page