Al-Risala · September 1996 · page 62

دو ہجرتیں

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۶۲

ہندوستانی لیڈروں کے پاس یہ مضبوط دلیل تھی کہ ہم اس ملک کے باشندے ہیں۔ اس لئے دنیا بھر کے مسلمہ اصول کے مطابق ہم کو حق ہے کہ ہم اپنے ملک میں اپنی مرضی کی حکومت بنالیں۔ انگریز کے پاس نظریہ استستمار تھا اور گاندھی کے پاس نظریہ خود اختیاری۔ پہلے کے مقابلے میں دوسرا نظریہ واضح طور پر بر تر ثابت ہوا۔ اور انگریز کو یہاں سے نکل جانا پڑا۔ یہ ہجرت تدبیری مہاتما گاندھی کی سمجھ میں آئی مگر وہ علماء اسلام کی سمجھ میں نہ آسکی۔ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ ۱۹۲۰ سے پہلے کے دور میں آزادی ہند کی تحریک میں علا سیاسی امام کا درجہ حاصل کئے ہوئے ہیں۔ مگر ۱۹۲۰ کے بعد کے دور میں اچانک وہ مقتدی بن کر رہ جاتے ہیں۔ چنانچہ مولانا محمود حسن صاحب سے لے کر مولانا آزاد تک تمام علماء نے مہاتما گاندھی کو اپنا سیاسی قائد تسلیم کر لیا۔

آج دوبارہ یہی صورتحال ہمارے سامنے ہے۔ مسلمانوں کے کچھ نادان دوست مسلمانوں سے یہ کہہ رہے ہیں کہ "مسلک کش فسادات سے نجات کا راستہ ہجرت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں سازش کے تحت فرقہ وارانہ فساد کرایا جاتا ہے۔ مسلمان اگر ان فسادات میں دفاع کے اصول کے تحت مقابلہ کرتے ہیں تو عدد ہی فرق کی بنا پر مسلمانوں کا دفاع غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔ ایسی حالت میں اسلام کے اصول ہجرت کے تحت مسلمانوں کو اپنے مقامات سے ہجرت کر جانا چاہئے۔ اس سے ان کی مراد داخلی ہجرت ہے۔ یعنی مسلمان ملک کے اندر اپنے علیحدہ پاکٹ بنائیں اور منتشر آبادیوں سے نکل کر ان مخصوص علاقوں میں آباد ہو جائیں۔ ایک صاحب لکھتے ہیں:

" ہندوستانی مسلمانوں کی بے وقتی کا راز، باوجود ۲۰ کروڑ کی آبادی کے یہ ہے کہ وہ گاؤں گاؤں اور شہر بہ شہر پھیلے ہوئے ہیں۔ اپنی عددی قوت بڑھانے اور اکثریت میں تبدیل ہونے کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہجرت کر کے بعض پہلے سے طے شدہ علاقوں میں منتقل ہو جائیں۔ یعنی مسلمان ملک کے اندر ہی نقل مکان کریں۔ جہاں مسلمانوں کا تناسب آبادی کم ہے، ان علاقوں کو غیر محفوظ قرار دے کر محفوظ علاقوں کی طرف ہجرت کر جائیں (افکار ملی ۔ دہلی ، مارچ ۱۹۹۳ ، صفحہ ۶۲)

‹ Previous page Next page › Contents of September 1996 All issues

Printed page