Andrew Roberts, Eminent Churchillians
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۴۳
آرمی زندگی بنا سکتے ہیں۔ اس لئے جس پاکستانی کو موقع ملا وہ پہلی فرصت میں پاکستان سے بھاگ کر وہاں پہنچ گیا۔ کتنا بڑا فریب تھا جس میں لوگ ۱۹۷۴ء سے پہلے مبتلا ہوئے، اور کتنا بڑا فریب ہے جس میں وہ اب تک مبتلا ہیں۔
ایک تعلیم یافتہ عرب سے ملاقات ہوئی۔ وہ برطانیہ کے ایک اسلامک سنٹر کے مدیر (ڈائرکٹر) ہیں۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ اس زمانہ میں دشمنانِ اسلام کا مقابلہ کرنے کے لئے اور اسلامی دنیا میں ان کی سازشوں اور ان کے فتنوں کے توڑ کے لئے دعوت سب سے زیادہ اہم ہے، خواہ مسلم ملکوں کا معاملہ ہو یا دوسرے ملکوں کا۔ (الدعوة في عصرنا هذا أهم من واجب الواجبات لمواجهة اعداء الاسلام ودفع مؤامراتهم ومكائدهم وشرورهم عن ديار الاسلام سواء اخل ديار المسلمين اوخارجها)
میں نے کہا کہ آخری نتیجہ کے اعتبار سے یہ دعوت کا ایک پہلو ہو سکتا ہے۔ مگر دامی کے اپنے ذہن کے اعتبار سے یہ کوئی درست بات نہیں۔ دعوت در اصل محبت اور خیر خواہی کا عمل ہے۔ اگر آپ دوسری قوموں کو دشمنِ اسلام کے خانہ میں ڈال دیں تو آپ کبھی خیر خواہی کے جذبہ کے ساتھ ان کے اوپر دعوت کا کام نہیں کر سکتے۔ دعوت کے لئے ماں کا جذبہ درکار ہے، اور ماں کبھی اپنے بیٹے کو دشمن کے روپ میں نہیں دیکھتی ، خواہ بظاہر وہ سرکشی کا فعل کیوں نہ کر رہا ہو۔ مانچسٹر کالج ، آکسفورڈ سے ایک جنرل نکلتا ہے۔ اس کا نام ہے فیتھ اینڈ فریڈم۔ اس کے نمبر ۱۳۲ (۱۹۹۲ء) میں جارج کریسیڈیز (George Chryssides) کا ایک مضمون دیکھا۔ اس کا عنوان تھا نہ یہی آزادی (Religious Freedom) - اس مضمون میں روزنامہ گارڈین (The Guardian) کے شمارہ ۲۷ جولائی ۱۹۹۱ء کے حوالہ سے ایک واقعہ نقل کیا گیا تھا۔ انھوں نے لکھا تھا: کچھ لوگوں کا خیال ہو سکتا ہے کہ انگلینڈ جیسے بظاہر آزاد سماج میں سب کچھ ٹھیک ہے اور وہاں مذہبی آزادی محفوظ ہے۔ مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہے۔ بہت سی مثالوں سے اس کی ایک مثال یہ ہے کہ کچھ مہینہ پہلے ایک انجینئرنگ فرم کے میٹنگ ڈارکٹر نے راتھرم (Rotherham) میں ایک اسٹاف کے لئے اشتہار دیا۔ اس اشتہار میں یہ شرط درج تھی کہ مسلمان اس کے لئے درخواست نہ بھیجیں :
‹ Previous page Next page › Contents of September 1996 All issues