Andrew Roberts, Eminent Churchillians
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۴۲
پائی جاتی ہے۔ یہ اسلامی ممالک کے ساتھ ہی کیوں مخصوص ہے (صفحہ ۴)، مولانا علی میاں اس سوال کا کوئی واضح جواب نہ دے سکے۔
عجیب بات ہے کہ یہی سوال اس سے پہلے میں نے ایک مغربی پروفیسر سے کیا تھا۔ اس نے ایک لمحہ کے لئے سوچا۔ اس کے بعد بولا ــــ اس فرق کا سبب شاید یہ ہے کہ ہم اختلاف کا استقبال کرتے ہیں جب کہ مسلم معاشرہ میں اختلاف کو امر ممنوع سمجھا جاتا ہے :
Perhaps the reason is that here we welcome dissent. Whereas in Muslim societies dissent is always seen as a taboo. میں سمجھتا ہوں کہ یہ جواب نہایت درست ہے۔ مغربی دنیا میں اختلاف اور تنقید کو صحت مندی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ جب کہ مسلم دنیا کا حال یہ ہے کہ ہر شخصیت، ہر ادارہ، ہر جماعت، ہر سیاسی نظام تقریباً بلا استثناء، تنقید اور اختلاف کو ایک ناقابل برداشت برائی کا درجہ دئے ہوئے ہے۔ اب چوں کہ طبیعتوں کے تننوع کی بنا پر اختلاف رائے بالکل ناگزیر ہے، مغربی دنیا میں اختلاف پر کھلی آزادی ہونے کی وجہ سے لوگوں کے جذبات کو نکاس ملتا رہتا ہے۔ اس کے برعکس مسلم دنیا میں اختلاف پر روک کی وجہ سے مسلسل ذہنی خلشار موجود رہتا ہے جس کا اظہار مختلف صورتوں میں ہوتا رہتا ہے۔
پاکستان کے مشہور اردو روزنامہ نوائے وقت ۲۴ اگست ۱۹۹۴ میں ایک ’تحریک پاکستان گولڈ میڈلسٹ‘ کے قلم سے مضمون چھپا تھا۔ اس کا عنوان تھا : وحدت ملی کے لئے ناسور فرقہ واریت۔ اس مضمون میں انھوں نے کہا تھا کہ ۱۹۴۷ سے پہلے تحریک پاکستان کے زمانہ میں جواہر لال نہرو نے کہا تھا کہ : اصل مسئلہ اقتصادی ہے، مذہب نہیں ہے اور اس میں ہندو مسلم کی تفریق نہیں ہے۔ مگر مسلمان قوم نے اس بیان کو پر کاہ کے برابر وسعت نہ دی اور پوری طرح قائد اعظم کا ساتھ دیا :
مگر پاکستان بننے کے بعد ملینوں لوگ پاکستان سے بھاگ بھاگ کر یورپ اور امریکہ پہنچ گئے کیا اس کا محرک مذہب نہیں تھا۔ ظاہر ہے کہ نہیں۔ اس کا واحد سبب اقتصادی تھا۔ لوگ سمجھتے تھے کہ پاکستان کے مقابلہ میں برطانیہ اور امریکہ میں ان کے لئے زیادہ بہتر کمائی کے مواقع ہیں، وہاں وہ زیادہ بہتر
‹ Previous page Next page › Contents of September 1996 All issues