no Muslims need apply .
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۴۵
کی عیسائی ٹیچر نے بائبل کے مطابق بتایا کہ خدا نے چھ دن میں دنیا بنائی اور ساتویں دن آرام کیا۔ آمینہ نے ہاتھ اٹھایا۔ خاتون ٹیچر نے کہا کہ تم کو کچھ کہنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ بچہ نے کہا کہ آمینہ نے کہا کہ آپ کہتی ہیں کہ خدا نے آرام کیا۔ مگر میرے والدیں نے تو مجھ کو بہت چاہا ہے کہ خدا کو آرام کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی :
My parents say that God Almighty does not need any rest. ٹیچر لڑکی کی اس بات سے متاثر ہوئی ۔ اس نے کہا کہ اچھا تم اسلامی لٹریچر لا کر ہمیں دو، ہم اس کو پڑھیں گے۔ اس کے بعد آمینہ نے انھیں اسلامی کتابیں پہنچانا شروع کر دیا۔ آمینہ کے بھائی اسد میاں نے دیکھا کہ بہن اسلام کی تبلیغ کر رہی ہے تو انہوں نے بھی اپنی کلاس میں اسی طرح کی گفتگو کا سلسلہ شروع کر دیا۔
۸ اگست کی صبح کو چار بجے نیند کھل گئی۔ فجر کی نماز یہاں ۵ بجے تھی۔ شمشاد خاں صاحب اور ان کے صاحبزادۂ اسد میاں کے ساتھ سنٹرل مسجد گیا اور وہاں فجر کی نماز ادا کی۔ مسجد کافی بڑی ہے۔ پہلی صف میں آدھی صف کے بقدر نمازی موجود تھے۔ راستہ میں شمشاد خاں صاحب نے کئی قصے بتائے۔ احمد دیدات صاحب اکثر انگلینڈ آتے رہتے ہیں۔ ان کے اندر حاضر جوابی کی صفت بہت زیادہ ہے۔ انھوں نے بتایا کہ امریکہ میں ایک بار ایک عیسائی مبلغ سے ان کا ڈیبیٹ تھا۔ عیسائی نے کہا کہ آپ ایک افریقی ہیں۔ مگر آپ امریکہ کے جس شہر میں چاہیں جا سکتے ہیں۔ اسی طرح ہم مکہ کیوں نہیں جا سکتے۔ احمد دیدات صاحب نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہر ملک میں داخل ہونے کے لئے کچھ شرطیں ہوتی ہیں۔ آپ ایک مقرر فارم پر کرتے ہیں۔ پھر آپ کو ویزا دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ہی آپ اس ملک میں داخل ہوتے ہیں، اسی طرح مکہ میں داخل ہونے کی بھی ایک سادہ سی شرط ہے۔ آپ کہئے کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ اور پھر آپ جب چاہیں مکہ کے اندر داخل ہو سکتے ہیں۔ پھر عیسائی نے کہا کہ آپ امریکہ میں آئے ہیں۔ یہاں ہم اور آپ ایک جگہ بیٹھ کر ڈیبیٹ کر رہے ہیں۔ اسی طرح مکہ میں دو مذہبوں کے درمیان ڈیبیٹ کیوں نہیں ہو سکتا۔ احمد دیدات صاحب نے کہا کہ یہ بھی بہت آسان بات ہے۔ آج ہم سٹیلائٹ کے دور میں جی رہے ہیں۔ آج ڈیبیٹر کو سفر کر کے کہیں جانے کی ضرورت نہیں۔ آج سٹیلائٹ کے ذریعہ ہر جگہ اس قسم کے مشترک
‹ Previous page Next page › Contents of September 1996 All issues