Al-Risala · September 1996 · page 46

A chance to make dream come true.

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۴۶

ڈیبیٹ کا انتظام کیا جاسکتا ہے۔ ایک سعودی شیخ نے احمد دیدات صاحب کے اس پروگرام کو ویڈیو پر دیکھا۔ اس جواب پر وہ اتنا خوش ہوا کہ اس نے انھیں دو ملین ڈالر دے دیے۔ مغربی دنیا میں سب سے بڑا فتنہ ٹی وی ہے۔ تقریباً سبھی لوگ اس کی شکایت کرتے ہیں۔ مگر تقریباً سبھی لوگ عملاً اس کو اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اس کا اثر بچوں پر بہت برا پڑ رہا ہے۔ یہاں ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے اس مسئلہ کا نہایت عمدہ حل نکال لیا ہے۔ پہلے ان کے گھر میں ٹی وی دیکھا جاتا تھا۔ اب انھوں نے اینٹینا نکال کر اس کا استعمال اپنے گھر کے اندر بالکل بند کر دیا ہے۔ جہاں تک خبروں کا تعلق ہے، وہ ان کو ریڈیو پر سن لیتے ہیں۔ بقیہ پروگرام کے لئے انھوں نے ایک صاحب کے ذریعہ یہ انتظام کیا ہے کہ ہر ہفتہ وہ چیک کر کے دیکھ لیا کریں کہ اس ہفتہ میں کون کون اسلامی پروگرام آرہا ہے یا کون سا مفید پروگرام ہے۔ ایسے پروگرام کو وہ ویڈیو پر ریکارڈ کر کے انھیں دے دیتے ہیں تاکہ وہ ان کو وی سی آر پر دیکھ سکیں۔ اس طرح چونکہ انھوں نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ اب وہ اور ان کے بچے ٹی وی پر آنے والے سارے پروگرام نہیں دیکھتے۔ وہ صرف وہی پروگرام دیکھتے ہیں جن کو وہ خود دیکھنا چاہتے ہیں:

مذکورہ مسلمان کے صاحبزادہ مسز اسد علی سے میری گفتگو ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ پہلے ہم کو کمی کا احساس ہوتا تھا۔ مگر اب ایسا احساس نہیں ہوتا۔ اب ہمارا تمام وقت تعلیم کی مصروفیات میں گذر جاتا ہے۔ سارا معاملہ یوز ٹو (Use to) ہونے کا ہے۔ آپ جس چیز کے عادی ہو جائیں وہی آپ کو ٹھیک معلوم ہونے لگے گا۔

برمنگھم کے اخبار ایوننگ میل (۲۰ جولائی ۱۹۹۶) میں ایک اشتہار تھا کہ دس ہزار پونڈ تک ایک کار جیتو (win a car) اس عنوان کے تحت جلی حروف میں لکھا ہوا تھا۔ اپنے خواب کو پورا کرنے کا ایک موقع :

A chance to make dream come true.

یہ لاٹری کی قسم کا ایک معاملہ تھا۔ اس کو پڑھ کر خیال آیا کہ اس سے بھی زیادہ بڑا موقع انسان کو یہ ملا ہے کہ وہ دنیا کی مختصر زندگی میں عملِ صالح کا ثبوت دے اور آخرت کی ابدی کامیابی کا مستحق بنے۔ کار کا خواب بہت چھوٹا خواب ہے اور جنت کا خواب اس کے مقابلہ میں بہت بڑا خواب۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1996 All issues

Printed page