A chance to make dream come true.
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۴۹
جین ٹی وی کی ٹیم، زیرِ قیادت مسٹر دھر میندر ترپاٹھی، نے 19 اپریل 1996 کو صدرِ اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس سے تھا کہ آنے والے الیکشن میں مسلم ووٹر کا رجحان کیا ہو گا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ اب مسلمان اپنے نام نہاد لیڈروں سے اتنا زیادہ بیزار ہو چکے ہیں کہ وہ ان کی کوئی بات سننے والے نہیں۔
انگریزی اخبار ایشین ایج کی نمائندہ شیلار یڈی نے 20 اپریل 1996 کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ اندازہ ہے کہ اس بار کے الیکشن (اپریل۔ مئی 1996) میں مسلم ووٹر کسی کے کہنے سے کسی پارٹی کو ووٹ نہیں دے گا، وہ خود اپنی رائے کے تحت اس کا فیصلہ کرے گا۔
نئی دہلی کے ہندی اخبار جے وی جی ٹائنس کے نمائندہ مسٹر شاہدر رضا نے 19 مارچ 1996 کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات تعلق زیادہ تر اس سے تھا کہ مسجد کے امام کے بارہ میں شرعی احکام کیا ہیں۔ اس سلسلہ میں ضروری تفصیلات بتائی گئیں۔ ہندی اخبار را ششتر یہ سہارا کے نمائندے مسنر پر بھاگپتا اور ان کے ساتھی نے 20 اپریل 1996 کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے ہر قسم کی ترقی کے مواقع موجود ہیں۔ انھیں چاہئے کہ وہ مایوسی کی سوچ چھوڑ دیں اور مواقع کو استعمال کر کے بڑی بڑی ترقیاں حاصل کریں۔
وشو اہسسا سماج کی طرف سے 21 اپریل 1996 کو کانسٹ ٹیوشن کلب نئی دہلی میں ایک سیمنار ہوا۔ اس کا موضوع آفاقی انسان کی تیاری میں تعلیم کا رول تھا: Role of education in creation of universal man اس کی دعوت پر صدرِ اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ تعلیم سے تنگ نظری ختم ہوتی ہے۔ اس طرح تعلیم آفاقی انسان بنانے میں مدد دیتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1996 All issues