Al-Risala · September 1996 · page 48

A chance to make dream come true.

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۴۸

نہیں مل سکتی۔ اس لئے بہتر یہ ہے کہ ملیشیا کے انداز کی مخلوط حکومت یہاں بنائی جائے۔ ۶| سری شکل دھام (دہلی ۸۱) کے تحت ۳۱ مارچ ۱۹۹۴ کو سرد دھرم سمینیل ہوا۔ اس کی دعوت ۔ پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور مذہب کی حقیقت پر ایک تقریر کی۔ ۷| جین مہاسبھا کی طرف سے فکی آڈیٹوریم (نئی دہلی) میں ۳۱ مارچ ۱۹۹۶ کو ایک کانفرنس ہوئی۔ جس میں دلائی لامابھی شریک تھے۔ اس کا موضوع تھا نان وائیلنس اور ٹالرنس۔ صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی اور موضوع پر اسلام کا نقطہ نظر پیش کیا۔ ۸| انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس کے نمائندہ مسٹر پارساور نیکیٹشورنے ۸ اپریل ۱۹۹۶ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس سے تھا کہ آئندہ الیکشن (نئی دہلی ۱۹۹۶) میں مسلمانوں کا ووٹنگ پیٹرن کیا ہوگا۔ جواب کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمانوں کے اندر پولیٹیکل شعور کی شدید کمی ہے، اس لئے بظاہر امید نہیں کہ وہ اپنے ووٹ کی طاقت کو زیادہ مفید طور پر استعمال کر سکیں گے۔ ۹| دہلی کے انگریزی ماہنامہ ڈپلومیٹک ایرا (Diplomatic Era) کے ایڈیٹر مسٹرجے پرکاش - نے ۲۵ دسمبر ۱۹۹۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا تعلق زیادہ تر الرساله مشن سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ نااہل لیڈروں کی غلط رہنمائی سے ایک عرصہ تک اس ملک کے ہندو مسلمانوں کو ایک قسم کا پرابلم کمیونٹی سمجھتے رہے۔ اسی طرح مسلمان ہندوؤں کو اپنے لئے پرابلم پڑوسی سمجھتے رہے۔ مگر اب دونوں اس وہم سے نکل آئے ہیں۔ اس فکری تبدیلی نے دونوں کے لئے ترقی کے نئے مواقع کھول دئے ہیں۔ ۱۰| ہندی اخبار جن ستار (دہلی) کے نمائندہ مسٹر کارندر نے ۱۳ اپریل ۱۹۹۶ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر آئندہ الیکشن (اپریل - مئی ۱۹۹۶) سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ منفی ووٹ دینے کا طریقہ ختم کریں اور مثبت فیصلہ کے تحت اپنی رائے دینے کا حق استعمال کریں۔ ۱۱| صدر اسلامی مرکز نے ۱۱ - ۱۲ اپریل ۱۹۹۶ کو سردھنہ (میرٹھ) کا سفر کیا۔ اس کی روداد سفرنامہ کے تحت انشا اللہ الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1996 All issues

Printed page