Al-Risala · January 1996 · page 45

پیغمبر اسلام کی سنتیں

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۶، صفحہ ۴۵

۳۔ اسلامی تاریخ کا ایک واقعہ ہے جس کو غزوہ خندق یا غزوہ احزاب کہا جاتا ہے۔ یہ غزوہ شوال ۵ھ میں پیش آیا۔ اس میں بارہ ہزار کی نہایت مسلح فوج نے مدینہ کو گھیر لیا تھا۔ یہ نہایت سخت معاملہ تھا۔ قرآن میں اس کی تصویر ان الفاظ میں کھینچی گئی ہے کہ جب وہ اوپر سے اور نیچے سے تم پر چڑھ آئے۔ جب خوف سے آنکھیں پتھر اگئیں۔ کلیجے منہ کو آگئے ۔ اور تم لوگ اللہ کے بارہ میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ اس وقت ایمان والے خوب آزمائے گئے اور وہ بری طرح ہلامارے گئے (الاحزاب ۱۰-۱۱)

اس وقت مسلمان مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ چنانچہ شہر کے باہر خندق کھود کر ٹکراؤ سے بچنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم مسئلہ ختم نہیں ہوتا تھا۔ شدید محاصرہ کی یہ حالت تقریباً ۲۵ دن تک جاری رہی۔ اس انتہائی مشکل موقع پر ایک مسلمان نے نہایت اہم کردار ادا کیا۔ اس کا نام نعیم بن مسعود تھا۔ نعیم بن مسعود نے رات کے وقت آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور کہا کہ میں ایک ایسا شخص ہوں جس کو دونوں طرف کا اعتماد حاصل ہے۔ ایک طرف میں سچے دل سے مسلمان ہو چکا ہوں ۔ دوسری طرف سابقہ تعلق کی بنا پر ابھی تک قریش اور یہود میری عزت کرتے ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ بھاگ جاؤ، تم ہمارے دشمن کے ایجنٹ ہو۔ بلکہ آپ نے خوش ہو کر فرمایا : (انما انت في نارجل واحد (سیرۃ ابن ہشام ۲۴۷/۳) یعنی تم تو ہمارے درمیان ایک ہی ایسے آدمی ہو۔ چنانچہ آپ نے اس آدمی کو استعمال کیا، اور اس نے ایک ایسی حکیمانہ تدبیر کی کہ دشمن محاصرہ ختم کر کے واپس چلے گئے۔ اس معاملہ کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔

نعیم بن مسعود نے اس موقع پر وہی رول ادا کیا جس کو درمیانی (intermediary) شخص کا رول کہا جاتا ہے۔

اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ کی سنتوں میں سے ایک سنت یہ بھی ہے کہ "درمیانی شخص" کی عزت کی جائے۔ اس کے اوپر بھروسہ کیا جائے۔ اور اس کو باہمی معاملات کی اصلاح کے لیے استعمال کیا جائے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمان چونکہ "سنت رسول کی کتابوں میں اس سنت کو لکھا ہوا نہیں پاتے ، اس لیے وہ اس سنت سے واقف بھی نہیں ہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1996 All issues

Printed page