Al-Risala · January 1996 · page 44

پیغمبر اسلام کی سنتیں

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۶، صفحہ ۴۴

کی کتابوں میں غزوہ الحدبیہ کے تحت درج کیا گیا ہے (السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ۳/ ۳۱۲) حدیبیہ کا واقعہ مختصر طور پر یہ ہے کہ ہجرت کے چھٹے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ آپ کا مقصد عمرہ کرنا تھا۔ آپ مکہ کے قریب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تھے کہ مکہ کے مشرکین نے آگے بڑھ کر آپ کو روکا۔ انھوں نے کہا کہ ہم آپ کو مکہ میں داخل ہونے نہیں دیں گے۔

یہ ایک بڑی نازک صورت حال تھی۔ یقینی معلوم ہوتا تھا کہ اگر آپ نے مکہ میں داخلہ پر اصرار کیا تو جنگ کی نوبت آجائے گی اور پھر جان و مال کی ہلاکت کے سوا کچھ اور حاصل نہیں ہوگا۔ اس وقت آپ نے قریش مکہ سے گفت و شنید جاری کر دی۔ اس کا نتیجہ دونوں کے درمیان ایک معاہدہ تھا۔ یہ دراصل ایک نا جنگ معاہدہ (no-war pact) تھا جس کی بیشتر دفعات بظاہر قریش کے حق میں اور مسلمانوں کے خلاف تھیں۔ اس کے باوجود آپ اس صلح نامہ پر دستخط کر کے مدینہ واپس آگئے۔ یہ معاہدہ چودہ سو سال سے کتابوں میں لکھا ہوا موجود ہے۔ مگر تمام عوام و خواص اس کو بس "غزوہ الحدبیہ" کا ایک معاملہ سمجھتے ہیں، کیونکہ کتابوں میں وہ اسی عنوان کے تحت لکھا گیا ہے، حالانکہ وہ ایک امن کا معاہدہ تھا اور امن کی طاقت کو استعمال کرنے کی ایک عظیم تدبیر۔ اس معاہدہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی عمل (Islamic activism) ایک پرامن عمل ہے۔ اسلامی عمل تشدد کی طاقت پر مبنی نہیں ہے بلکہ امن کی طاقت پر مبنی ہے۔ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان اگر جنگ اور ٹکراؤ کی حالت قائم ہو جائے تو اسلام کی طاقت امن کا ظہور رک جائے گا۔ اس لیے اہل ایمان کو ایسا کرنا چاہیے کہ جب دونوں فریقوں میں اس قسم کی صورت حال پیدا ہو جائے تو وہ فریقِ ثانی کی شرائط کو یک طرفہ طور پر مان کر اس سے صلح کر لیں۔ تاکہ وہ فضا پیدا ہو جس میں اسلام کی امن کی طاقت کو بروئے کار آنے کا موقع مل جائے۔ یہ ایک عظیم حکمت ہے۔ اس حکیمانہ عمل میں، قرآن کی شہادت کے مطابق، فتح مبین کا راز چھپا ہوا ہے۔ مگر موجودہ مسلمان اس تسخیری سنت کو اختیار کرنے سے محروم ہیں، اور اس کی سادہ وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے تقلیدی ذہن کی وجہ سے اس کو سنتِ رسول کے طور پر جانتے ہی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1996 All issues

Printed page