امتِ وسط
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۶، صفحہ ۴
امتِ وسط
قرآن میں امتِ محمدی کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اور اس طرح ہم نے تم کو امت بسط بنا دیا تا کہ تم لوگوں کے اوپر گواہ بنو اور رسول تمہارے اوپر گواہ ہو (البقرہ ۱۴۳) وسط کے معنی بیچ کے ہیں۔ یعنی وہ چیز جو دو چیزوں کے درمیان ہو (وسط الشیئ مابین طرفیہ) مثلاً عربی میں کہا جاتا ہے کہ قبضتُ وسط الحبل (میں نے رسی کے بیچ میں پکڑا) یا جلستُ وسط القوم (میں لوگوں کے درمیان میں بیٹھا) اموی حاکم حجاج بن یوسف نے کوفہ اور بصرہ کے بیچ میں ایک شہر بسایا تھا۔ اسی لیے اس کو واسط کہا جاتا تھا۔ کیوں کہ وہ ایک ایسا مقام تھا جو بصرہ اور کوفہ کے درمیان واقع تھا۔ سموه واسطاً لانه مكان وسط بين البصرة والكوفة لسان العرب ۴/ ۳۲۶ - ۴۲۷ الطبری نے نقل کیا ہے کہ وسط سے مراد وہ چیز ہے جو دو کناروں کے بیچ میں ہو (الذی ھو بین الطرفین) ابن زید نے کہا کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ امتِ محمدی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسری قوموں کے درمیان ہے (وهم وسط بين النبي صلى الله عليه وسلم وبين الامم) تفسیری ۶/ ۲- ۸ یہ آیت کوئی فضیلت یا اعزاز کی آیت نہیں ہے۔ وہ امتِ مسلمہ کی دعوتی ذمہ داری کو بتاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ختمِ نبوت کے بعد یہ امتِ رسولؐ اور ہم اپنی ہم عصر قوموں کے درمیان ہے۔ اس کو رسولؐ سے لے کر دوسری قوموں تک پہنچانا ہے۔ دعوتی عمل میں اس کو درمیانی ذریعہ کا کردار ادا کرنا ہے۔
یہ ایک بے حد نازک کام ہے۔ کیوں کہ یہ گویا اہل عالم کے سامنے خدا کے رسولؐ کی نمائندگی ہے۔ ایک طرف امتِ مسلمہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ پہنچانے کا یہ کام ضرور کرے۔ اگر اس نے نہیں پہنچایا تو یہ اس کے حق میں ایک ناقابلِ معافی کوتاہی ہوگی۔ دوسری طرف اس کام میں انتہائی احتیاط برتنا ہے۔ یعنی دوسروں تک عین وہی بات پہنچانا ہے جو رسولؐ کی بات ہے، اس میں کسی بھی قسم کا انحراف اس کے لیے جائز نہیں۔
امتِ محمدی کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ خود اپنی زندگی کو دین دار بنائے۔ اس کی دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ وہ درمیانی کردار ادا کرتے ہوئے دوسروں کو دین کی دعوت دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1996 All issues