Al-Risala · October 1996 · page 5

صبر وتقویٰ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۶، صفحہ ۵

صبر وتقویٰ

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اس دنیا کی ہر چیز ہم نے جوڑا جوڑا پیدا کی ہے (الذاریات ۴۹) یہ فطرت کا ایک آفاقی اصول ہے۔ یہاں جب بھی کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے وہ دو چیزوں کے تعامل سے رونما ہوتا ہے۔ کوئی بھی چیز تنہا اس دنیا میں کوئی واقعہ یا نتیجہ ظاہر نہیں کر سکتی۔ اس اصول کا تعلق اجتماعی زندگی سے بھی ہے۔ اسی کو ایک پرانی مثل میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔ ایک آدمی اپنا ہاتھ فضا میں ہلاتا رہے تو اس سے تالی نہیں بچے گی۔ تالی بجنے کے لیے ضروری ہے کہ دوسرا ہاتھ اس سے ٹکرائے۔ جب تک دوسرا ہاتھ نہ اٹھے تالی کا بجنا بھی رکا رہے گا۔

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ مخالف کی ضرر رسانی کا معاملہ بھی یہی ہے۔ مخالف کی ضرر رسانی کا ارادہ اس وقت کامیاب ہوتا ہے جب کہ فریق ثانی بھی اپنی نادانی یا سادہ لوحی سے اس کے ساتھ تعاون کا معاملہ کر بیٹھے۔ فریق ثانی اگر دوسرا ہاتھ بننے سے رک جائے تو دشمن کی مخالفتانہ تالی بھی بجنے والی نہیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ کچھ لوگ اہل اسلام کو نقصان پہنچانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ان کو اہل اسلام سے سخت بغض اور عداوت ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ : ان تصبروا وتتقوا لا يضركم اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو تو كيدهم شيئا إن الله بما يعملون ان کی کوئی تدبیر تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچائے گی۔ محیط (آل عمران ۱۲۰) جو کچھ وہ کر رہے ہیں سب اللہ کے بس میں ہے۔

اس آیت کی تشریح اس طرح کی جاسکتی ہے کہ دشمن کی سازش صرف ۵۰ فی صد حد تک کارگر ہے۔ وہ اپنی تکمیل تک صرف اس وقت پہنچتی ہے جب کہ فریق ثانی اپنی کسی غلطی سے اس کے منصوبہ کا بقیہ ۵۰ فی صد حصہ پورا کر دے۔ صبر و تقویٰ اس بات کی ضمانت ہے کہ اس منصوبہ کا یہ بقیہ نصف حصہ دشمن کو حاصل نہ ہو۔ جب ایسا ہو گا تو اس کی مخالفانہ تدبیر لازمی طور بے نتیجہ ہو کر رہ جائے گی۔

اس قانون کے تحت اللہ تعالیٰ نے آپ کے معاملہ کو خود آپ کے ہاتھ میں دے دیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1996 All issues

Printed page