Al-Risala · October 1996 · page 8

تیار ذہن

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۶، صفحہ ۸

تیار ذہن

پاستچر (Louis Pasteur) دور جدید کا ایک ممتاز سائنس داں ہے۔ وہ ۱۸۲۲ء میں فرانس میں پیدا ہوا، اور ۱۸۹۵ء میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ علی تیاری پر بہت زور دیتا تھا۔ اس نے کہا کہ خوش قسمتی صرف ایک تیار ذہن کے حصہ میں آتی ہے :

Fortune favours a prepared mind.

اس قولی میں ایک فطری حقیقت بیان کی گئی ہے جس کا تعلق زندگی کے ہر شعبہ اور دنیا کے ہر معاملہ سے ہے۔ سائنس کے میدان میں جس آدمی نے بھی کوئی ڈسکوری (دریافت) کی ہے؛ وہ وہی شخص ہے جو وسیع مطالعہ اور لمبے تجربہ کے نتیجہ میں اس قابل ہو چکا تھا مذکورہ دریافت کی علامتیں جب ظاہر ہوں تو وہ فوراً اس کو پہچان لے اور اس پر مزید تحقیق کر کے اس کو ایک مکمل فارمولا کی حیثیت دے سکے۔

اسی طرح معاشی ترقی کے میدان میں کوئی بڑی کامیابی اسی آدمی کو حاصل ہوتی ہے جو پہلے سے اس کے لیے ضروری تیاری کر چکا ہو۔ معاشی ترقی کے مواقع بار بار آتے ہیں۔ مگر اس سے فائدہ وہی شخص اٹھاتا ہے جو پہلے سے اس معاملہ کی پوری معلومات رکھتا ہو اور پیش آمدہ موقع کو استعمال کرنے کی ضروری صلاحیت بھی اپنے اندر پیدا کر چکا ہو۔

ٹھیک یہی معاملہ دینی معرفت کا بھی ہے۔ خدا کی طرف سے ہر آن حکمت و معرفت کی بارش ہو رہی ہے مگر اس میں حصہ صرف اسی شخص کو ملتا ہے جو اپنے سینہ میں اس کا برتن فراہم کر چکا ہو۔ کائنات میں خدا کی تجلیات بکھیری ہوئی ہیں مگر ان تجلیات کا مشاہدہ صرف وہ شخص کر پاتا ہے جو پہلے سے اپنے اندر تدبر و تفکر کا مزاج بنا چکا ہو۔ دنیا عبرتوں اور نصیحتوں سے بھری گئی ہے مگر کسی چیز سے عبرت اور نصیحت کا رزق لینے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنے اندر تو سم (الحجر ۵۷) کی صلاحیت پیدا کر چکا ہو۔ مناظر فطرت میں ہر طرف خدا کی عظمتیں نمایاں ہیں مگر ان عظمتوں کو محسوس کر کے تڑپ اٹھنا صرف اس انسان کے لیے مقدر ہے جو اپنی بڑائی کے ہر احساس سے اپنے ذہن کو خالی کر چکا ہو۔ یہی معاملہ ان تمام تجربات کا ہے جس کو معرفت کہا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1996 All issues

Printed page