فیصلہ کیجئے
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۶، صفحہ ۹
فیصلہ کیجئے
نشتے (F.W. Nietzche) ایک مشہور جرمن فلسفی ہے ۔ وہ ۱۸۴۴ میں پیدا ہوا، اور ۱۹۰۰ میں اس کی وفات ہوئی۔ اس نے اپنا ایک احساس اس طرح تحریر کیا ہے ـــــ گہری تہ پر ہر آدمی خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ ایک انوکھی شخصیت ہے ، وہ صرف ایک بار اس دنیا میں آیا ہے۔ اور کسی بھی غیر معمولی اتفاق کی بنا پر اس کے جیسا معجزاتی قسم کا متنوع انسان یہاں آنے کا دوسرا موقع نہیں پا سکتا:
At bottom every man knows well enough that he is a unique being, only once on this earth; and by no extraordinary chance will such a marvelously picturesque piece of diversity in unity as he is, ever be put together a second time. (The book of Success, p. 33)
انسان کتنا زیادہ قیمتی وجود ہے۔ مگر اس وقت وہ انتہائی بے قیمت معلوم ہونے لگتا ہے جب کہ یہ دیکھا جائے کہ انسان پیدا ہونے کے بعد صرف تھوڑی مدت کے لیے زمین پر پیر تہ کرتا ہے اور اس کے بعد اس طرح یہاں سے چلا جاتا ہے کہ پھر وہ دوبارہ اس زمین پر واپس نہیں آتا۔ یہ فلسفیانہ نقطہ نظر ہے۔ مگر اس معاملہ کو جب مذہبی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ساری تصویر بدل جاتی ہے۔ اب انسان کے لیے یہ دروازہ کھل جاتا ہے کہ موجودہ دنیا میں وہ اپنے آپ کو بہتر انسان ثابت کرے۔ اور اس کے نتیجہ میں وہ اگلی دنیا میں شاندار تر انداز میں اپنے لیے ابدی زندگی حاصل کرے ۔
فلسفیانہ نقطہ نظر میں انسان کے لیے مایوسی اور تاریخی ہے۔ اس کے برعکس مذہبی نقطہ نظر میں انسان کے لیے امید اور روشنی ہے۔ یہی فرق یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ مذہبی نقطہ نظر درست ہے، اور فلسفیانہ نقطہ نظر صرف بے بنیاد قیاس آرائی۔
انسان بلاشبہ حیرت ناک حد تک ایک قیمتی وجود ہے۔ مگر بیشتر انسان اپنی قیمتی صلاحیتوں کو وقتی تماشاؤں میں ضائع کر دیتے ہیں۔ وہ اپنی صلاحیتوں کو اعلی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کر پاتے۔ انسان مقام اعلی کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ مگر وہ اپنے آپ کو مقام اسفل میں گرا لیتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1996 All issues